اتر پردیش : سینئر صحافی محمد نسیم احمد کا بہیمانہ قتل، دیوالی اشتہار کے تنازع پر آٹا مل مالک اور ساتھیوں کا پرتشدد حملہ

اتر پردیش کے ضلع ہاپوڑ میں ہندی روزنامہ ‘دینک جن وانی’ کے بیورو چیف ساٹھ سالہ محمد نسیم احمد کو دیوالی کے اشتہار کے تنازع پر بے دردی سے مار پیٹ کر قتل کر دیا گیا ہے۔ یہ اندوہناک واقعہ ہاپوڑ دیہات تھانے کے دائرہ اختیار میں آنے والی جروٹھی روڈ پر پیش آیا، جہاں سینئر صحافی اپنے ساتھیوں کے ہمراہ اخبار کے لیے اشتہارات کے سلسلے میں ایک مقامی آٹا مل گئے تھے۔ پولیس نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے دو مشتبہ افراد کو حراست میں لے کر قانونی کارروائی شروع کر دی ہے۔

عینی شاہد صلاح الدین کے بیانات کے مطابق، محمد نسیم احمد اپنے ساتھیوں کے ہمراہ کاروباری اشوک کمار گپتا کی آٹا مل پر دیوالی کے روایتی اشتہارات کے لیے پہنچے تھے۔ مل مالک نے اشتہار دینے سے انکار کرتے ہوئے ان کے ساتھ نازیبا گفتگو کی اور واپسی کے دوران انہیں "جعلی صحافی” کہہ کر ان کی تضحیک کی۔ جب سینئر صحافی نے اس توہین آمیز رویے اور بدکلامی پر اعتراض کیا تو تلخ کلامی شدت اختیار کر گئی۔ اس کے فوراً بعد آٹا مل مالک، اس کے بیٹے اور دیگر ملازمین سمیت تقریباً سات سے آٹھ افراد نے مل کر نسیم احمد اور ان کے ساتھی پر حملہ بول دیا۔

تھانہ ہاپوڑ دیہات میں مقتول کے داماد ڈاکٹر شاہ رخ کی جانب سے درج کرائی گئی باضابطہ شکایت کے مطابق، یہ پرتشدد واقعہ اتوار کی دوپہر پیش آیا۔ شاہ رخ نے بتایا کہ ان کی اہلیہ نے فون پر اطلاع دی کہ ان کے والد پر جان لیوا حملہ ہوا ہے۔ کمیونٹی ہیلتھ سینٹر پہنچنے پر موقع پر موجود افراد نے تصدیق کی کہ مل مالک اشوک کمار گپتا، اس کے بیٹے کپل، نریش کمار اور چار سے پانچ نامعلوم افراد نے نسیم احمد کو زمین پر گرا کر گھونسوں اور لاتوں سے وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا۔ حملہ آوروں نے خاص طور پر بزرگ صحافی کے سینے اور دیگر نازک اعضاء پر بے رحمی سے پے در پے وار کیے، جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہو کر گر پڑے اور بعد ازاں دم توڑ گئے۔

ہاپوڑ کے پولیس سپرنٹنڈنٹ مدھوبن کمار نے میڈیا کو بتایا کہ اشتہار کے لین دین پر ہونے والے تنازع کے دوران مار پیٹ سے صحافی نسیم احمد کی ہلاکت ہوئی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پولیس نے فوراً جائے وقوعہ کا معائنہ کر کے لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دیا ہے اور معاملے میں ملوث دو اہم افراد کو حراست میں لے کر تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔ پولیس افسر کا کہنا تھا کہ فرانزک شواہد اور عینی شاہدین کے بیانات کی روشنی میں تمام نامزد ملزمان کے خلاف قتل کی دفعات کے تحت کارروائی کی جائے گی۔

اس لرزہ خیز واقعے کے بعد مقامی صحافتی برادری اور اقلیتی حلقوں میں شدید بے چینی، غصہ اور عدم تحفظ کا احساس پایا جا رہا ہے۔ صحافتی تنظیموں نے ایک سینیئر صحافی کے دن دہاڑے بہیمانہ قتل پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ گراؤنڈ پر کام کرنے والے اقلیتی اور علاقائی رپورٹرز کو تحفظ فراہم کرنے میں ریاستی انتظامیہ مسلسل ناکام نظر آ رہی ہے۔ جمہوری قدروں اور صحافتی آزادی کے لیے کام کرنے والے کارکنان نے اس واقعے کو امن و امان کی سنگین پامالی قرار دیا ہے۔

مقتول کے لواحقین اور صحافتی انجمنوں نے ریاستی حکومت سے تمام مفرور ملزمان کی فوری گرفتاری، تیز رفتار عدالتی ٹرائل اور متاثرہ خاندان کے لیے مالی معاوضے اور تحفظ کی فوری فراہمی کا پرزور مطالبہ کیا ہے۔ تفتیشی ٹیموں نے علاقے کی سی سی ٹی وی فوٹیج اکٹھی کرنا شروع کر دی ہیں تاکہ واقعے میں ملوث باقی نامعلوم افراد کی شناخت کر کے ان کے خلاف ٹھوس چارج شیٹ تیار کی جا سکے۔

شیئر کریں۔