بنگلورو (فکروخبر نیوز) عوام کو بروقت اور شفاف بنیادی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانے اور سرکاری افسران کا اپنے تعارفی ہیڈکوارٹر میں قیام لازمی بنانے کی غرض سے حکومتِ کرناٹک نے ایک نیا اور سخت قدم اٹھایا ہے۔ حکومت نے جیو فینسنگ (Geofencing) پر مبنی رات کی حاضری کے نظام کو ‘کرتویا’ (Kartavya) موبائل ایپلی کیشن کے ذریعے متعارف کروایا ہے۔ اس پالیسی کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ سرکاری افسران و ملازمین اپنے حدودِ کار میں موجود رہیں تاکہ عوامی مسائل کا فوری تدارک ممکن ہو سکے اور ترقیاتی کام بغیر کسی تاخیر کے مکمل ہو سکیں۔
پہلے مرحلے کے طور پر حکومت اس نئے سسٹم کو یکم نومبر 2026 سے صحت و خاندانی بہبود کے تحت آنے والے تمام تعلقہ ہسپتالوں اور پرائمری ہیلتھ سینٹرز (PHCs) کے ڈاکٹروں کے لیے پائلٹ بیسس پر نافذ کرے گی۔ اس نظام کے تحت ڈاکٹروں کو روزانہ رات 9 بجے کے بعد اپنے طے شدہ ہیڈکوارٹر، یعنی متعلقہ شہر، قصبے یا گاؤں کی جغرافیائی حدود میں رہتے ہوئے کرتویا ایپ پر اپنی نائٹ اٹینڈنس مارک کرنی ہوگی۔ منظور شدہ رخصت یا سرکاری اجازت کے ساتھ ہیڈکوارٹر سے باہر رہنے والے افسران کو ایپ میں اس کی وجہ درج کرنی ہوگی جبکہ بغیر اجازت غیر حاضر رہنے والے ملازمین کے خلاف سول سروسز قواعد کے تحت سخت ڈسپلنری کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
یہ فیصلہ اپ لوک آیوکت کی ان کارروائیوں اور انکشافات کے بعد سامنے آیا ہے جس میں پایا گیا تھا کہ متعدد سرکاری ملازمین اپنے ہیڈکوارٹر میں رہنے کے بجائے دور دراز مقامات سے کام چلا رہے تھے جس سے عوامی خدمات شدید متاثر ہو رہی تھیں۔ اس کے علاوہ ایک الگ سرکلر کے ذریعے حکومت نے تمام سرکاری محکموں، بورڈز اور کارپوریشنوں میں کام کرنے والے کنٹریکٹ اور آؤٹ سورس ملازمین کے لیے بھی کرتویا ایپ پر رجسٹریشن 25 نومبر 2026 تک اور اٹینڈنس یکم دسمبر 2026 سے لازمی قرار دے دی ہے۔ یکم جنوری 2027 سے ان تمام غیر مستقل ملازمین کی تنخواہیں صرف کرتویا ایپ کی اٹینڈنس رپورٹ کی بنیاد پر ہی جاری کی جائیں گی۔




