بھٹکل (فکروخبرنیوز) بھٹکل تعلقہ میں اس سال مانسون کے دوران معمول سے کم بارش ہونے کے نتیجے میں کڈوینکٹے آبی ذخیرے میں پانی کی کمی دیکھی جارہی ہے۔ بارش کی اس کمی نے مقامی کسانوں اور عوام میں تشویش پیدا کردی ہے۔ خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ اگر آنے والے دنوں میں مناسب بارش نہ ہوئی تو زرعی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ پینے کے پانی کی فراہمی بھی متاثر ہوسکتی ہے۔
بھٹکل میں گزشتہ برسوں کے دوران سالانہ اوسطاً 5,000 سے 5,500 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی جاتی رہی ہے تاہم اس سال اب تک مجموعی طور پر 4,152.3 ملی میٹر بارش درج کی گئی ہے۔ بارش کی مقدار میں اس کمی کے باعث آبی ذخائر میں پانی کی آمد متاثر ہوئی ہے اور کسانوں کو مستقبل میں آب پاشی کے لیے پانی کی دستیابی کے حوالے سے خدشات لاحق ہوگئے ہیں۔
مقامی کسانوں کا کہنا ہے کہ اگرچہ اس بار مانسون کے دوران بارش ہوئی لیکن اس کی مجموعی مقدار گزشتہ برسوں کے مقابلے میں کم رہی۔ ایسے حالات میں کڈوینکٹے ڈیم کے پانی پر انحصار کرنے والے علاقوں کو آنے والے مہینوں میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔
کڈوینکٹے آبی ذخیرہ بھٹکل کے لیے اہم ذریعہ
کڈوینکٹے آبی ذخیرہ بھٹکل شہراور تعلقہ کے متعدد علاقوں کے لیے پانی کا ایک اہم ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ اس ذخیرے سے نہ صرف شہری ضروریات پوری کی جاتی ہیں بلکہ آس پاس کے زرعی علاقوں کو بھی پانی فراہم کیا جاتا ہے۔ اس آبی ذخیرے پر بھٹکل کے بڑے حصے کی پانی کی ضروریات کا انحصار ہے۔ مقامی سطح پر خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ اگر بارش کی کمی برقرار رہی تو پانی کی موجودہ مقدار کو طویل عرصے تک برقرار رکھنا مشکل ہوسکتا ہے۔
خصوصاً خشک موسم میں جب بارش تقریباً بند ہوجاتی ہے، اس وقت آبی ذخیرے میں جمع پانی ہی پینے اور کھیتی باڑی کی ضروریات پوری کرنے کا اہم ذریعہ بنتا ہے۔
کسانوں کو فصلوں کی آبپاشی کی فکر
بارش میں کمی کے باعث بھٹکل کے کسانوں کو اپنی فصلوں کے لیے پانی کی دستیابی کی فکر لاحق ہوگئی ہے۔ مقامی کسانوں کے مطابق آبی ذخیرے سے کھیتوں کو مناسب مقدار میں پانی ملنا ضروری ہے۔ اگر ڈیم میں پانی کی مقدار مزید کم ہوئی تو آنے والے دنوں میں زرعی سرگرمیاں متاثر ہوسکتی ہیں۔ خاص طور پر دھان کی کاشت کرنے والے کسانوں کو زیادہ تشویش ہے، کیونکہ دھان کی فصل کو دیگر کئی فصلوں کے مقابلے میں زیادہ پانی درکار ہوتا ہے۔
تقریباً 2,000 سے 2,500 ہیکٹر رقبے پردھان کی کاشت
اطلاعات کے مطابق بھٹکل تعلقہ میں تقریباً 2,000 سے 2,500 ہیکٹر زرعی اراضی پر دھان کی کاشت کی جاتی ہے۔ ان زرعی علاقوں میں کسان بڑی حد تک مانسون کی بارش اور دستیاب آبی وسائل پر انحصار کرتے ہیں۔ بارش کی کمی کے باعث کھیتوں میں پانی کی دستیابی متاثر ہونے کا اندیشہ ہے۔ کسانوں کا کہنا ہے کہ اگر آنے والے دنوں میں ضرورت کے مطابق پانی فراہم نہ ہوسکا تو دھان کی پیداوار متاثر ہونے کے ساتھ زرعی اخراجات میں بھی اضافہ ہوسکتا ہے۔ مقامی زرعی حلقوں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے ابھی سے پانی کے مؤثر انتظامات کیے جائیں تاکہ آئندہ فصلوں کو نقصان سے بچایا جاسکے۔
متعدد علاقوں میں پانی کی قلت کا اندیشہ
بھٹکل تعلقہ کے کئی علاقوں میں کھیتی باڑی کے لیے پانی کی فراہمی قدرتی آبی ذرائع پر منحصر ہے۔ کسانوں کے مطابق بعض علاقوں میں پہلے ہی پانی کی دستیابی محدود ہورہی ہے، جس کے باعث انہیں اپنی فصلوں کی آبپاشی کے لیے مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر آنے والے دنوں میں بارش نہ ہوئی تو ڈیم اوردیگرآبی وسائل میں پانی کی مقدار مزید کم ہوسکتی ہے۔ ایسی صورتحال میں نہ صرف کھیتی باڑی بلکہ روزمرہ استعمال کے لیے پانی کی فراہمی بھی ایک بڑا مسئلہ بن سکتی ہے۔
زیر زمین پانی اور کنوؤں کی صورتحال پر بھی تشویش
بارش کی کمی کا اثر صرف ڈیم اور آبی ذخائر تک محدود نہیں رہتا بلکہ زیر زمین پانی کی سطح بھی متاثر ہوسکتی ہے۔ بارش کا پانی زمین میں جذب ہوکر کنوؤں اور دیگرزیرزمین آبی ذرائع کو دوبارہ بھرنے میں مدد دیتا ہے۔ لیکن بارش معمول سے کم ہونے کی صورت میں ان ذرائع میں بھی پانی کی دستیابی متاثر ہونے کا خدشہ رہتا ہے۔ مقامی کسانوں کے مطابق پانی کی قلت کا مسئلہ بڑھنے پر زرعی علاقوں میں کنوؤں اور دیگر دستیاب ذرائع پر انحصار مزید بڑھ سکتا ہے۔
جنگلی جانوروں کے لیے بھی پانی کی کمی کا خدشہ
پانی کی قلت کے ممکنہ اثرات صرف انسانوں اور زرعی سرگرمیوں تک محدود نہیں ہیں، بلکہ جنگلی جانور بھی اس سے متاثر ہوسکتے ہیں۔ مقامی سطح پر یہ خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ اگر جنگلاتی علاقوں میں پانی کے قدرتی ذرائع خشک ہونے لگے تو جنگلی جانور پانی کی تلاش میں آبادیوں اور زرعی علاقوں کا رخ کرسکتے ہیں۔ ایسی صورتحال میں انسانوں اور جنگلی جانوروں کے درمیان تصادم کے امکانات بھی بڑھ سکتے ہیں۔
کسانوں نے پانی کے بہتر انتظامات کا مطالبہ کیا
کسانوں اور مقامی لوگوں نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ پانی کی موجودہ صورتحال کا جائزہ لے کر بروقت اقدامات کیے جائیں۔ خصوصاً کڈوینکٹے آبی ذخیرے میں پانی کی دستیابی، زرعی ضروریات اور پینے کے پانی کی فراہمی کو مدنظر رکھتے ہوئے مناسب منصوبہ بندی کرنے پر زور دیا گیا ہے۔ کسانوں کا کہنا ہے کہ پانی کے استعمال اور تقسیم کے لیے مؤثر انتظامات ضروری ہیں تاکہ محدود آبی وسائل سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھایا جاسکے۔ ان کے مطابق اگر ابھی سے احتیاطی تدابیر اختیار کی جائیں تو آنے والے خشک موسم میں ممکنہ مشکلات کو کسی حد تک کم کیا جاسکتا ہے۔
بروقت اقدامات کی ضرورت
بھٹکل میں معمول سے کم بارش اور کڈوینکٹے آبی ذخیرے میں پانی کی آمد گھٹنے کی صورتحال نے مستقبل میں پانی کی دستیابی کے حوالے سے اہم سوالات کھڑے کردیے ہیں۔ اگرچہ فی الحال بڑے پیمانے پر پانی کے بحران کی تصدیق نہیں ہوئی ہے، لیکن بارش کی کمی کے باعث پیدا ہونے والے خدشات کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ ایسے حالات میں آبی وسائل کا تحفظ، پانی کا محتاط استعمال اور زرعی و شہری ضروریات کے لیے پیشگی منصوبہ بندی انتہائی اہم ہے۔ مقامی کسانوں اور عوام کو امید ہے کہ متعلقہ حکام صورتحال کی سنگینی کو مدنظر رکھتے ہوئے ضروری اقدامات کریں گے تاکہ آنے والے مہینوں میں پینے کے پانی اور کھیتی باڑی کے لیے مشکلات پیدا نہ ہوں۔
وارتا بھارتی کے شکریہ کے ساتھ (رضا مانوی)




