اختلافات اور بدگمانیوں کو دور کرکے سماجی برائیوں کے خاتمے کے لیے متحد ہونے کی اپیل
بھٹکل (فکروخبر نیوز) معاشرے میں پائے جانے والے باہمی اختلافات اور شکوک و شبہات کو دور کرکے اتحاد، بھائی چارے اور خوشگوار ماحول کو فروغ دینے کے لیے تمام سماجی و فلاحی اداروں کو متحد ہوکر کام کرنا چاہیے۔ خصوصاً شہر کو آلودگی، شراب نوشی اور منشیات کی لعنت سے پاک کرنے کے لیے مشترکہ کوششیں وقت کی اہم ضرورت ہیں۔
ان خیالات کا اظہار روزنامہ وارتھا بھارتی کے چیف ایڈیٹر عبدالسلام پتیگے نے بھٹکل کے جالی بیچ پر واقع کوکوس ریسارٹ میں مجلس اصلاح و تنظیم کے زیر اہتمام اتوار کو منعقدہ سیرت مہم اور خیرسگالی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
عبدالسلام پتیگے نے کہا کہ آج صورت حال یہ ہے کہ لوگ ایک دوسرے کے قریب رہنے کے باوجود اجنبیوں کی طرح زندگی گزار رہے ہیں۔ اس ماحول کو بدلنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ معاشرے میں جھگڑوں اور اختلافات کے بے شمار اسباب ہوسکتے ہیں، لیکن سماجی برائیوں کے خاتمے کے لیے تمام تنظیموں اور اداروں کو ایک پلیٹ فارم پر آنا ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ شہر کو آلودگی، شراب اور منشیات سے پاک کرنے کی کوششوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت اور آپ کی تعلیمات کو مشعل راہ بنانا چاہیے۔
مولانا ابوالحسن علی ندوی اسلامک اکیڈمی کے جنرل سیکریٹری مولانا محمد الیاس ندوی نے اپنے خطاب میں بھٹکل کے اتحاد اور اتفاق کی کئی مثالیں پیش کیں۔ مولانا کہا کہ آج بھی جو خاص بھٹکل سے تعلق رکھتے والے ہیں چاہے ان کا تعلق کسی بھی مذہب سے ہو ان کے اندر بھائی چارہ کی صفات ہیں ، بھٹکل کی تاریخ گواہ ہے کہ یہاں بڑے سے بڑے مندروں اور مٹھ کے سوامی آئے جنہوں نے یہاں کے مسلمانوں کے بارے میں اپنے اچھے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ کئی مرتبہ ہمارا بھی کئی مندروں میں سوامی جی کی ملاقات کے لیے جانا ہوا انہوں نے اپنے تمام ترجاری پروگراموں کو چھوڑ کر ہمیں وقت دیا اور ہمارے ساتھ خوش گوار ماحول میں وقت گزارا۔ مولانا نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا تنظیم اور دیگر اداروں کی جانب سے اس طرح کی ملاقاتوں کا سلسلہ کی کوششیں کی جاتی ہیں لیکن ہمارے ہندو بھائیوں کی جانب سے بھی اس طرح کی کوششیں ہونی چاہیے۔ اس بات پر زور دیتے ہوئے مولانا نے کہا کہ ہمارے نوجوانوں کو قریب کرکے ان تک بھی ہماری اس بھٹکل کے بھائی چارہ کے ورثہ کو منتقل کرنے کی ضرورت ہے۔
بھٹکل کے ڈی وائی ایس پی ایس وی گریش نے اپنے خطاب میں مختلف مذاہب اور طبقات کے ذمہ داران کو ایک ہی پلیٹ فارم پر جمع کرکے خیرسگالی پروگرام منعقد کرنے کے اقدام کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ اس نوعیت کی غیر رسمی ملاقاتیں مختلف طبقات کے درمیان پائی جانے والی غلط فہمیوں اور بدگمانیوں کو دور کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ معاشرے میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے پولیس اور عوام کے درمیان باہمی اعتماد کا ہونا نہایت ضروری ہے۔
ایک شخص کی جان بچانے والے گنپتی نائک کو تنظیم اعزاز
اپنی جان خطرے میں ڈال کر ایک شخص کی جان بچانے پر گنپتی نائک کو خصوصی طور پر اعزاز سے نوازا گیا۔ واضح رہے کہ گنپتی نائک نے مرڈیشور میں ایک شخص کو ٹرین کی زد میں آنے سے بچانے کے لیے اپنی جان کی پروا کیے بغیر بہادری کا مظاہرہ کیا تھا۔ ان کی اس قابل تحسین خدمات کے اعتراف میں انہیں ’’تنظیم گورو پرسکار‘‘ پیش کیا گیا۔ مجلس اصلاح و تنظیم کے نائب صدر اور پروگرام کے صدر محمد صادق پلور نے انہیں اعزاز پیش کیا، جبکہ سماجی کارکن آدم پنمبور نے سپاس نامہ پڑھ کر سنایا۔
اجلاس کی صدارت مجلس اصلاح و تنظیم کے نائب صدر محمد صادق پلور نے کی۔ تنظیم کے پولیٹیکل پینل کے کنوینر سید عمران لنکا نے مہمانوں کا استقبال کرتے ہوئے پروگرام کے اغراض و مقاصد بیان کیے۔
سینئر صحافی ایم آر مانوی نے نظامت کے فرائض انجام دیے، جبکہ سہیل اقبال نے کلمات تشکر پیش کیے۔
اس موقع پر مجلس اصلاح و تنظیم کے جنرل سیکریٹری مولانا عزیز الرحمن ندوی رکن الدین، تعلیمی و ثقافتی کمیٹی کے کنوینر عبدالمجید رکن الدین اور بھٹکل میونسپل کونسل کے کمشنر باباصاحب مانے بھی اسٹیج پر موجود تھے۔ پروگرام میں مختلف سرکاری محکموں کے افسران، ڈاکٹروں، وکلاء، سماجی شخصیات اور دیگر معززین نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔




