بنگلورو (فکروخبر نیوز) کرناٹک میں ووٹر لسٹوں کی خصوصی گہری نظرثانی (SIR) مہم کا باضابطہ آغاز ہونے اور گراؤنڈ لیول وریفکیشن سے ٹھیک پہلے، ووٹر لسٹ سے ووٹروں کے نام حذف کرنے کے لیے 1.28 لاکھ سے زیادہ ‘فارم-7’ (Form-7) درخواستیں جمع کروائے جانے کا سنسنی خیز انکشاف ہوا ہے۔ ‘دی ہندو’ کی خصوصی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق، ان میں سے 45,878 درخواستیں ‘تھرڈ پارٹی’ (تیسرے افراد) کی جانب سے داخل کی گئی تھیں، یعنی جن کا متعلقہ ووٹر یا الیکشن آفیشل سے بلاواسطہ کوئی تعلق نہیں تھا۔
تفصیلات سے معلوم ہوتا ہے کہ ووٹر لسٹ فریز ہونے کی مقررہ تاریخ 16 جون 2026 سے پہلے موصول ہونے والی ان درخواستوں میں سے 2,254 درخواستیں محض 112 افراد نے ‘بلک’ (ایک ساتھ بڑی تعداد) میں داخل کی تھیں۔ مثال کے طور پر سندھنور کی ایک خاتون بساوا نے اکیلے 96 درخواستیں جمع کرائیں، جبکہ باگلکوٹ کے ایک شخص نے ایک ہی پولنگ اسٹیشن کے 62 ووٹروں کے نام ہٹانے کی درخواست دی تھی۔ ان تھرڈ پارٹی درخواستوں میں سے 36,439 میں ووٹر کی موت کا حوالہ دیا گیا، جبکہ 6,775 میں منتقل ہونے یا غیر حاضر ہونے کی وجہ بتائی گئی۔ خاص بات یہ ہے کہ ان میں سے بیشتر درخواستیں باگلکوٹ، بیلگاوی نارتھ، سندھنور اور نپانی جیسی اسمبلی نشستوں پر مرکوز تھیں، جن میں سے اکثر پر کانگریس کے اراکینِ اسمبلی نمائندگی کر رہے ہیں۔
تحقیقات سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ بیلگاوی نارتھ میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے کارکنان کی جانب سے اقلیتی و مسلم ووٹروں کو نشانہ بناتے ہوئے پہلے سے پر کیے گئے فارم-7 بوتھ لیول افسران (BLOs) کو سونپنے کے واقعات بھی ہوئے ہیں۔ سوال یہ اٹھایا جا رہا ہے کہ جب ایس آئی آر مہم کے تحت افسران نے خود ہر گھر جا کر ووٹروں کی تصدیق کرنی تھی، تو اس سے پہلے ہی اتنی بڑی تعداد میں فارم-7 کیوں قبول کیے گئے؟ کرناٹک کے چیف الیکٹورل آفیسر (CEO) وی انبو کمار نے وضاحت دی کہ ریکارڈ کی بنیاد پر 16 جون تک التوا میں پڑے فارمز کو پراسیس کیا گیا، تاہم انہوں نے اس بات کا واضح جواب نہیں دیا کہ آیا متاثرہ ووٹروں کو کوئی قانونی نوٹس جاری کیا گیا تھا یا نہیں۔




