منگلورو (فکروخبر نیوز) وزیر برائے صحت و خاندانی بہبود یوٹی قادر نے کینسر کی مہنگی ادویات کی قیمتوں کی حد بندی کرنے کے مرکزی حکومت اور نیشنل فارماسیوٹیکل پرائسنگ اتھارٹی (NPPA) کے فیصلے کا پرجوش خیر مقدم کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ اس اہم اور تعمیری اقدام سے کینسر کے موذی مرض میں مبتلا غریب ومتوسط طبقے کے مریضوں اور ان کے خاندانوں پرسے معاشی بوجھ کافی حد تک کم ہو جائے گا اور انہیں علاج میں بڑی راحت ملے گی۔
یو ٹی قادر نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ کرناٹک فوڈ سیفٹی اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (FDA) کے معائنے کے دوران 254 فارماسیوٹیکل کمپنیوں کی جانب سے کینسر کی ادویات کی قیمتوں میں شدید تفاوت پایا گیا تھا۔ بہت ہی کم لاگت میں تیار ہونے والی ادویات پر زیادہ سے زیادہ قیمت لگاکرعوام کو فروخت کی جا رہی تھیں۔ اس معاملے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے ریاستی محکمہ صحت نے تفصیلات این پی پی اے (NPPA)، سنٹرل ڈرگز اسٹینڈرڈ کنٹرول آرگنائزیشن (CDSCO) اور دیگر مرکزی حکام کے سامنے دستاویزی ثبوت کے ساتھ پیش کی تھیں۔ انہوں نے 9 ستمبر کو بنگلورو کے آروگیہ سودھا میں بھی اس معاملے کو اٹھایا تھا اور سپریم کورٹ میں دائر عوامی مفاد عامہ کی عرضی (PIL) کا بھی حوالہ دیا۔
مرکزی فیصلے کے مطابق 137 کینسر کی ادویات کے ٹریڈ مارجن پر 30 فیصد کی حد (Price Cap) لگا دی گئی ہے، جس کے بعد ان تمام ادویات کی قیمتوں میں بڑی کمی متوقع ہے اور یہ نئی قیمتیں 9 نومبر سے نافذ العمل ہوں گی۔ وزیر صحت نے واضح کیا کہ کینسر جیسی مہلک بیماری کے علاج کے لیے کسی بھی خاندان کو اپنے اثاثے بیچنے یا مقروض ہونے پر مجبور نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے زور دیا کہ زندگی بچانے والی تمام تر ضروری ادویات ہر عام شہری کے لیے مناسب اور قابل برداشت قیمتوں پر دستیاب ہونی چاہئیں اور یہی ہمارے صحت عامہ کے نظام کی بنیادی ذمہ داری ہے۔




