لولا لنگڑا عذر قبول نہیں کریں گے۔۔۔۔کرناٹک ووٹوں کی گنتی کی ویڈیو غائب ہونے پر سپریم کورٹ الیکشن کمیشن پر برہم، ریکارڈ پیش کرنے کا حکم

سپریم کورٹ نے کرناٹک کی شرنگیری اسمبلی نشست پر سال 2023 کے دوران ہوئی ووٹوں کی گنتی کی ویڈیو ریکارڈنگ غائب ہونے کے دعوے پر الیکشن کمیشن آف انڈیا کی سخت سرزنش کی ہے۔ جسٹس سنجے کمار اور جسٹس سنجیو سچدیوا پر مشتمل بینچ نے کمیشن کے اس مؤقف پر شدید حیرت اور ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا کہ عدالت اس قسم کے لولے لنگڑے عذر ہرگز قبول نہیں کرے گی اور آئندہ سماعت پر تمام متعلقہ ریکارڈز عدالت کے سامنے پیش کیے جائیں۔

یہ تنازع کانگریس لیڈر ٹی ڈی راجے گوڑا اور بی جے پی امیدوار ڈی این جیواراج کے درمیان الیکشن کے نتائج سے متعلق ہے۔ سال 2023 کے اسمبلی انتخابات میں راجے گوڑا محض 201 ووٹوں کے معمولی فرق سے کامیاب قرار پائے تھے، تاہم بعد میں ووٹوں کی دوبارہ گنتی کے بعد بی جے پی کے جیواراج کو کامیاب قرار دے کر کانگریس ایم ایل اے کی نشست ختم کر دی گئی تھی۔ سپریم کورٹ نے مئی میں راجے گوڑا کی درخواست پر سماعت کے دوران عبوری ریلیف دیتے ہوئے مقدمے کے فیصلے تک ان کی بطور ایم ایل اے حیثیت برقرار رکھنے کی ہدایت دی تھی۔

مقدمے کی حالیہ سماعت کے دوران جب کانگریس رہنما نے مبصر کی رپورٹ اور اصل گنتی سمیت دوبارہ گنتی کی ویڈیو ریکارڈنگ طلب کی، تو الیکشن کمیشن کے سینئر وکیل شیشادری نائیڈو نے عدالت کو بتایا کہ کمیشن 2023 کی ویڈیو ریکارڈنگ تلاش کرنے میں فی الحال ناکام رہا ہے۔ اس پر بینچ نے شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے استفسار کیا کہ الیکشن کمیشن یہ کیسے کہہ سکتا ہے کہ اس کا ریکارڈ گم ہو گیا ہے، جبکہ کمیشن کا بنیادی کام ہی انتخابات کرانا اور ان کی دستاویزات کو محفوظ تحویل میں رکھنا ہے۔ عدالت نے خبردار کیا کہ اگر آئندہ تاریخ پر دستیاب ریکارڈ پیش نہ کیا گیا تو کمیشن کے خلاف منفی قانونی نتیجہ اخذ کیا جائے گا۔

اس تنازع کا پس منظر یہ ہے کہ بی جے پی امیدوار ڈی این جیواراج نے کرناٹک ہائی کورٹ میں الیکشن پٹیشن دائر کی تھی، جس پر ہائی کورٹ نے 6 اپریل کو پوسٹل بیلٹ ووٹوں کی دوبارہ گنتی اور مسترد شدہ 279 ووٹوں کی تصدیق کا حکم دیا تھا۔ بعد ازاں ریٹرننگ آفیسر نے ترمیم شدہ نتیجہ جاری کیا جس میں راجے گوڑا کے ووٹوں میں 255 کی کمی واقع ہوئی اور جیواراج کو فاتح قرار دے دیا گیا۔ راجے گوڑا نے اس فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ افسران نے دانستہ طور پر ان کے حق میں پڑے درست ووٹوں کو غیر قانونی طور پر خارج کیا۔

عدالتی مشاہدات اور عوامی رائے میں اس معاملے کو جمہوری شفافیت کے لیے انتہائی حساس قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ انتخابی دستاویزات اور ویڈیوز کا گم ہونا آئینی ادارے کی ساکھ اور غیر جانبداری پر سوالیہ نشان کھڑا کرتا ہے۔ شفاف الیکشن اور درست ریکارڈ کا تحفظ انتخابی عمل میں عوامی اعتماد کی بنیادی ضمانت سمجھا جاتا ہے۔

سپریم کورٹ نے اس معاملے کی مزید سماعت 15 فروری 2027 تک ملتوی کرتے ہوئے الیکشن کمیشن کو تمام دستاویزات اور ریکارڈ باقاعدہ طور پر جمع کرانے کی ہدایت دی ہے۔

انتخابی ریکارڈ کے تحفظ پر آئینی عدالت کی اس سخت برہمی نے الیکشن کمیشن کی جوابدہی کو مرکزی حیثیت دے دی ہے اور اب تمام نگاہیں اس بات پر ہیں کہ کمیشن آئندہ پیشی پر کس طرح ریکارڈ کی فراہمی یقینی بناتا ہے۔

شیئر کریں۔