فارم ۷ کے ذریعہ مسلم ووٹروں کے نام کاٹنے کی سازش، کرناٹک ہائی کورٹ نے بی جے پی لیڈر کے خلاف پولیس تحقیقات پر لگائی روک

کرناٹک ہائی کورٹ کی دھارواڑ بنچ نے بی جے پی کے مقامی رہنما ڈاکٹر روی بسالنگپّا گوڑا پاٹل اور دیگر افراد کے خلاف انتخابی فہرستوں کی خصوصی جامع نظرثانی (ایس آئی آر) کے دوران تقریباً دو سو مسلم ووٹروں کے نام جعلی دستاویزات کی مدد سے خارج کرانے کے الزام پر درج ایف آئی آر کی مزید تحقیقات پر عبوری روک لگا دی ہے۔ جسٹس وینکٹیش نائک ٹی نے منگل کے روز ایک ہم پلہ بنچ کے سابقہ فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے یہ حکم جاری کیا، جس میں کہا گیا تھا کہ چونکہ انتخابی حکام نے اب تک اعتراضات پر کوئی حتمی فیصلہ نہیں لیا ہے، اس لیے پولیس کی براہ راست مداخلت اور فوجداری کارروائی فی الوقت قبل از وقت نظر آتی ہے۔ اس اہم کیس کی اگلی باقاعدہ سماعت 29 اکتوبر کو مقرر کی گئی ہے۔

پراسیکیوشن کے مطابق یہ سارا معاملہ اس وقت سامنے آیا جب کانگریس پارٹی کے ایک بلاک ایجنٹ نے بلگام کے مارکیٹ پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کرائی۔ شکایت میں سنگین الزام عائد کیا گیا تھا کہ بی جے پی رہنما روی پاٹل اور ان کے ساتھیوں نے ایک منظم سازش کے تحت بلگام مہا نگر پالیکا کے بوتھ لیول آفیسر کو 198 فرضی فارم نمبر 7 جمع کرائے۔ ان درخواستوں کا واحد مقصد مبینہ طور پر ایک مخصوص اقلیتی برادری یعنی مسلم ووٹروں کو انتخابی عمل سے محروم کرنا تھا۔ شکایت کنندہ نے واضح کیا کہ جن 198 مسلم شہریوں کے نام ووٹر لسٹ سے خارج کرنے کا دعویٰ کیا گیا تھا، وہ حقیقت میں اپنے انہی رہائشی پتوں پر برسوں سے مقیم ہیں، جس کے بعد پولیس نے بھارتیہ نیائے سنہتا (بی این ایس) کی مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا تھا۔

ہائی کورٹ میں سماعت کے دوران بی جے پی لیڈر کے سینئر وکیل ارونا شیام نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ ایف آئی آر سیاسی دشمنی کی بنیاد پر درج کروائی گئی ہے اور قانون کے تحت انتخابی عمل کے متوازی پولیس تحقیقات کی گنجائش نہیں بنتی۔ انہوں نے دلیل دی کہ الیکشن کمیشن خود ایک ساتھ فارم نمبر 7 جمع کرنے کی اجازت دیتا ہے اور ان درخواستوں کی قانونی جانچ پڑتال کرنا الیکٹورل رجسٹریشن آفیسر کا دائرہ اختیار ہے۔ دفاعی وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ انتخابی افسر کے فیصلے کے بعد ہی اگر کوئی بدعنوانی ثابت ہو تو عوامی نمائندگی قانون کے تحت کارروائی کی جا سکتی ہے، اور بنگلورو بنچ نے بھی ملتے جلتے مقدمات میں تحقیقات پر اسی بنیاد پر روک لگائی تھی۔

عدالتِ عالیہ نے وکلا کے دلائل سننے کے بعد کہا کہ عدالتی نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کی خاطر تحقیقات کو فی الوقت روکنا ہی مناسب ہے۔ عدالت نے حکومت کو یہ حق بھی دیا ہے کہ اگر وہ ضروری سمجھے تو اس حکم میں ترمیم کے لیے رجوع کر سکتی ہے۔ اس سے قبل بلگام کی ایک سیشن عدالت نے بھی اسی بنیاد پر بی جے پی رہنما کی پیشگی ضمانت منظور کی تھی کہ محض فارم جمع کروانے سے نام فوری خارج نہیں ہوتے بلکہ انتخابی عملہ تصدیق کا عمل مکمل کرتا ہے۔ دوسری طرف، قانونی ماہرین اور سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ انتخابی فہرستوں میں بلک اعتراضات کا استعمال اقلیتی ووٹ بینک کو متاثر کرنے کے لیے بطور ہتھیار استعمال کیے جانے کے خدشات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

جمہوری نظام میں ووٹ کا بنیادی حق ہر شہری کے لیے مقدس ہے اور مخصوص علاقوں میں کسی خاص طبقے کے ووٹوں کو نشانہ بنانے کی خبریں اقلیتوں میں گہری تشویش کا باعث بن رہی ہیں۔ سول سوسائٹی اور قانونی کارکنان اس امر پر زور دے رہے ہیں کہ انتخابی کمیشن کو فارم نمبر 7 کے استعمال کے طریقہ کار کو شفاف بنانا چاہیے تاکہ کوئی بھی سیاسی گروہ اس کا غلط استعمال کر کے قانونی خلا کے ذریعے شہریوں کو ووٹ کے حق سے محروم نہ کر سکے۔ کیس کی 29 اکتوبر کو ہونے والی سماعت اس لحاظ سے انتہائی اہم ہوگی کہ کیا عدالت انتخابی عمل میں مبینہ جعلسازی پر فوجداری احتساب کی اجازت دیتی ہے یا معاملہ صرف انتخابی افسران کی صوابدید تک محدود رہتا ہے۔

شیئر کریں۔