قومی دارالحکومت نئی دہلی میں تاریخی مقام جنتر منتر پر احتجاج کا حق چھینے جانے اور ووٹر فہرستوں میں مبینہ ہیرا پھیری کے خلاف احتجاج کے دوران دہلی پولیس نے کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے سرکردہ رہنماؤں آشوتوش رانکا، سورَو داس اور اجنکیا شندے سمیت متعدد کارکنوں کو حراست میں لے لیا ہے۔ یہ واقعہ منگل کی دوپہر اس وقت پیش آیا جب کارکنان پولیس بیریکیڈز کو عبور کر کے بند کیے گئے جنتر منتر احاطے میں داخل ہو گئے اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف نعرے بازی کرتے ہوئے اس تاریخی مقام کو عوامی مظاہروں کے لیے فوری طور پر بحال کرنے کا مطالبہ کیا۔
مظاہرے کے مناظر سوشل میڈیا پر سامنے آنے کے بعد معاملے نے مزید شدت اختیار کر لی ہے۔ کارکنان ہاتھوں میں قومی پرچم تھامے گیٹ پھلانگ کر اندر داخل ہوئے اور نعرے بازی کی۔ پولیس اہلکاروں نے فوری مداخلت کرتے ہوئے طاقت کے استعمال کے ساتھ مظاہرین کو روکا اور گاڑیوں میں ڈال کر نامعلوم مقام کی جانب روانہ کر دیا۔ پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے اس کارروائی پر سخت مذمت ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ انتظامیہ کسی مقررہ جگہ کو فہرست سے تو نکال سکتی ہے لیکن آئینی حقوق کے تحفظ کے لیے اٹھنے والی عوامی مزاحمت کو دبایا نہیں جا سکتا۔
یہ تنازع دہلی پولیس کے اس حالیہ فیصلے کے بعد سنگین صورت حال اختیار کر گیا ہے جس میں جنتر منتر کو احتجاج کے لیے مختص مقامات کی فہرست سے خارج کر دیا گیا تھا۔ مرکزی وزارتِ داخلہ کی سفارشات کا حوالہ دیتے ہوئے پولیس نے مظاہروں کے لیے رام لیلا میدان، براری اور مشرقی دہلی کے سی بی ڈی گراؤنڈ جیسے متبادل مقامات طے کیے ہیں۔ عوامی حقوق کی تنظیموں اور سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ پارلیمنٹ کے قریب واقع جنتر منتر سے مظاہروں کو شہر کے دور دراز علاقوں میں منتقل کرنا دراصل عوامی آواز کو اقتدار کے ایوانوں تک پہنچنے سے روکنے کا ایک منظم حربہ ہے۔
اس احتجاجی لہر کا پس منظر ووٹر فہرستوں کی خصوصی جامع نظرثانی (ایس آئی آر) کے عمل سے جڑا ہے، جس پر حزب اختلاف اور سی جے پی نے چیف الیکشن کمشنر پر سنگین سوالات اٹھائے ہیں۔ ناقدین اور اقلیتی نمائندوں کا خدشہ ہے کہ اس عمل کے دوران غریب، پسماندہ اور اقلیتی ووٹروں کے نام بڑے پیمانے پر غیر منصفانہ طریقے سے انتخابی فہرستوں سے خارج کیے جا رہے ہیں، جس کا براہ راست سیاسی فائدہ حکمراں جماعت کو پہنچ سکتا ہے۔ دوسری طرف الیکشن کمیشن نے جانبداری کے الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے غلطیوں کی تصحیح کے لیے دوبارہ اندراج کی سہولت کا حوالہ دیا ہے، جب کہ حکمراں بی جے پی نے ان الزامات کو آئینی اداروں کے وقار کو مجروح کرنے کی سازش قرار دیا ہے۔
دارالحکومت میں احتجاج کے بنیادی حق پر عائد قدغنوں اور ووٹر لسٹوں کی شفافیت پر پیدا ہونے والے تنازع نے انتخابی نظام اور شہری آزادیوں پر گہرے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر جمہوری نظام میں عوام کو حکومتی پالیسیوں اور آئینی اداروں کے فیصلوں پر مرکز میں بیٹھ کر بات رکھنے کی اجازت نہ دی گئی تو اس سے عوامی بے چینی میں مزید اضافہ ہوگا۔ آنے والے دنوں میں سیاسی جماعتوں کی جانب سے اس معاملے کو عدالتی فورمز اور عوامی تحریکوں کے ذریعے مزید تیز کیے جانے کا قوی امکان ہے۔




