مغربی بنگال کے معروف شہر سلی گوڑی میں درگا پوجا کے تہوار کے دوران اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے دکانداروں اور تاجروں کے معاشی بائیکاٹ پر مبنی اشتعال انگیز پوسٹرز لگائے جانے کا سنگین معاملہ سامنے آیا ہے۔ ہندوتوا تنظیم ہندو جاگرن منچ کی جانب سے شہر کے مختلف حساس مقامات، پوجا پنڈالوں کے احاطوں اور حتیٰ کہ ریاستی وزیر شنکر گھوش کی رہائش گاہ کے بالکل سامنے یہ متنازع مہم کھلے عام چلائی جا رہی ہے۔ پوسٹرز پر واضح الفاظ میں تحریر کیا گیا ہے کہ گوشت اور بریانی صرف ہندو دکانداروں سے خریدی جائے، جس سے براہ راست مسلم تاجروں کے روزگار اور معاشی حقوق کو نقصان پہنچانے کی بو آتی ہے۔
سلی گوڑی کے بھارت نگر علاقے میں ترون تیرتھ کلب کے پوجا پنڈال کے چاروں طرف چسپاں کیے گئے ان پوسٹرز پر راہگیروں اور مقامی شہریوں نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اشتہارات میں لکھا گیا ہے کہ بریانی کھانے پر پابندی نہیں لیکن خریداری صرف مخصوص مذہبی دکانوں سے کی جائے۔ ہندو جاگرن منچ کے رکن ابھیشیک داس نے میڈیا کے سامنے اعتراف کیا ہے کہ یہ پوسٹرز انہوں نے خود شہر بھر میں لگائے ہیں اور ان کے بقول اس مہم کا مقصد ہندو اتحاد کو فروغ دینا ہے۔ تاہم انسانی حقوق کے کارکنان اور مقامی تجارتی تنظیمیں اسے اقلیتی برادری کو معاشی طور پر کمزور کرنے کی منظم اور غیر قانونی سازش قرار دے رہی ہیں۔
مغربی بنگال کی تاریخ ہمیشہ سے مشترکہ تہذیب، رواداری اور کثیر الجہتی سماجی ہم آہنگی کی علامت رہی ہے، جہاں درگا پوجا جیسے بڑے تہواروں میں تمام مذاہب کے لوگ بلا تفریق شریک ہوتے اور معاشی سرگرمیوں سے جڑتے ہیں۔ ملک کے دیگر حصوں میں اقلیتوں کے معاشی بائیکاٹ کے بعد اب بنگال کے پرامن ماحول میں بھی اس قسم کے ہتھکنڈے اپنائے جا رہے ہیں، جس کا مقصد شہریوں کے درمیان خلیج پیدا کرنا اور روزمرہ کی ضروریات زندگی کو فرقہ وارانہ رنگ دینا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ غذا کے انتخاب اور کاروبار کے بنیادی حق کو مذہب کے دائرے میں قید کرنا آئین ہند کی روح کے سراسر منافی ہے۔
اس معاملے کے منظر عام پر آتے ہی ریاست کے سیاسی و سماجی حلقوں میں زبردست ارتعاش پیدا ہو گیا ہے۔ سلی گوڑی کے سابق میئر اور بائیں بازو کے سینئر رہنما اشوک بھٹاچاریہ نے اس مہم کو کھلی فاشسٹ ذہنیت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہر شہری کو اپنی مرضی سے خریداری اور روزگار کرنے کی مکمل آزادی حاصل ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ بنگال جیسے سیکولر خطے میں مذہب کی بنیاد پر دکانوں کی درجہ بندی اور معاشی تفریق کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔ ادھر ریاستی وزیر شنکر گھوش نے اپنے گھر کے سامنے لگے پوسٹرز سے لا علمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس پر وہی لوگ وضاحت دے سکتے ہیں جنہوں نے یہ اقدام اٹھایا ہے۔
سول سوسائٹی اور امن پسند شہریوں نے ریاستی انتظامیہ اور پولیس سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا ہے تاکہ اس نفرت انگیز مہم کو فوری طور پر بند کرایا جا سکے۔ مقامی حلقوں کا کہنا ہے کہ تہوار کے موقع پر دانستہ طور پر لگائے گئے یہ پوسٹرز نہ صرف تجارتی برادری میں بے چینی پیدا کر رہے ہیں بلکہ خطے کے امن و امان کے لیے بھی خطرہ بن سکتے ہیں۔ عوام کی جانب سے نفرت انگیز تشہیر کے ذمہ دار عناصر کے خلاف فوری قانونی چارہ جوئی اور تمام اشتعال انگیز پوسٹرز ہٹانے کی پرزور اپیل کی جا رہی ہے۔




