سابق صحافی اور سماجی کارکن پرویز پرواز، جنہوں نے اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کی۲۰۰۷ء کی ایک تقریر کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا تھا، اتوار کو گورکھپور ضلع جیل میں انتقال کر گئے۔ ان کی عمر۷۲؍ سال تھی۔ وہ ایک الگ اجتماعی عصمت دری کے مقدمے میں عمر قید کی سزا کاٹ رہے تھے۔ گورکھپور ضلع جیل کے حکام کے مطابق، پرویز پرویز ہائی بلڈ پریشر اور ذیابیطس سمیت متعدد بیماریوں میں مبتلا تھے۔ اطلاعات کے مطابق، ہفتے کی دیر رات انہیں سانس لینے میں دشواری ہوئی، جس کے بعد انہیں ضلع اسپتال لے جایا گیا، جہاں اتوار کی صبح تقریباً۲؍ بجکر۵۰؍ منٹ پر دورانِ علاج ان کی موت ہوگئی۔ پرویز ستمبر ۲۰۱۸ء سے جیل میں قید تھے۔ ایک خاتون نے ان پر اور ایک دوسرے شخص پر اجتماعی عصمت دری کا الزام عائد کیا تھا۔ جولائی۲۰۲۰ءمیں ضلع عدالت نے اس معاملے میں انہیں عمر قید کی سزا سنائی تھی۔ ان کی موت کے بعد یوگی آدتیہ ناتھ کی اس تقریر کے خلاف ان کی طویل قانونی جدوجہد ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔ اس وقت آدتیہ ناتھ گورکھپور سے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے رکن پارلیمنٹ تھے۔
پرویز نے یوگی آدتیہ ناتھ کی۲۰۰۷ء کی تقریر ریکارڈ کی تھی
۲۷؍جنوری۲۰۰۷ء کو پرویز پرواز گورکھپور ریلوے اسٹیشن کے قریب سے گزر رہے تھے، جب انہوں نے مہارانا پرتاپ کے مجسمے کے نزدیک یوگی آدتیہ ناتھ کو ایک اجتماع سے خطاب کرتے دیکھا۔ محرم کے جلوس کے دوران ہونے والے تصادم میں ایک ہندو نوجوان زخمی ہوگیا تھا، جس کی بعد میں موت ہوگئی۔ اس واقعے کے بعد شہر میں کشیدگی پھیل گئی تھی۔ دی کارواں میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق، پرویز نے اپنے کیمرے سے اس تقریر کو ریکارڈ کیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق، آدتیہ ناتھ نے کہا تھا:’’آنے والے وقت میں ایک ہندو کے خون کے بدلے ہم انتظامیہ کے خلاف ایف آئی آر درج نہیں کرائیں گے، بلکہ اس کے بجائے کم از کم ایسے۱۰؍ لوگوں کو قتل کرائیں گے۔ ‘‘اس تقریر کے بعد گورکھپور کے مختلف علاقوں میں تشدد پھوٹ پڑا تھا۔ اطلاعات کے مطابق، فسادات کے دوران کم از کم دو افراد ہلاک ہوئے اور کروڑوں روپے مالیت کی املاک کو نقصان پہنچا۔
نفرت انگیز تقریر کے الزامات پر قانونی جدوجہد
پرویز پرواز نے تقریر کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے مقامی عدالت سے رجوع کیا تھا۔ ان کا الزام تھا کہ آدتیہ ناتھ نے اپنی تقریر کے ذریعے تشدد کو ہوا دی۔ تاہم، ان الزامات کی مخالفت کی گئی اور معاملہ کئی برس تک قانونی کارروائی کے مختلف مراحل سے گزرتا رہا۔ رپورٹس کے مطابق، پرویز نے مقامی عدالت سے آدتیہ ناتھ کے مبینہ کردار کی تحقیقات کرانے کی درخواست کی تھی، لیکن مجسٹریٹ نے اس بنیاد پر ان کی درخواست مسترد کردی کہ اس معاملے میں پہلے ہی ایف آئی آر درج کی جاچکی ہے۔ اس کے بعد انہوں نے سپریم کورٹ سے بھی رجوع کیا۔ تاہم، ان کی قانونی کوششوں کے نتیجے میں وہ کارروائی نہیں ہوسکی جس کا انہوں نے مطالبہ کیا تھا۔ بعد ازاں ایک الگ فوجداری مقدمے میں ان کی گرفتاری اور سزا نے ان کی زندگی کا رخ بدل دیا۔ ۲۰۱۸ء میں ایک۴۰؍ سالہ خاتون کی شکایت پر پرویز پرواز کو گرفتار کیا گیا تھا۔ خاتون نے ان پر اور محمود عرف جمعن بابا نامی ایک دوسرے شخص پر اجتماعی عصمت دری کا الزام لگایا تھا۔ ۲۸؍ جولائی۲۰۲۰ء کو ضلع عدالت نے اس مقدمے میں پرویز کو عمر قید کی سزا سنائی۔
جیل حکام نے موت کی وجہ صحت کے مسائل بتائے
گورکھپور ضلع جیل کے حکام کے مطابق، پرویز پرویز مختلف بیماریوں میں مبتلا تھے اور طبیعت زیادہ خراب ہونے پر انہیں اسپتال منتقل کیا گیا تھا۔ جیل سپرنٹنڈنٹ وی کے پانڈے نے اطلاعات کے مطابق بتایا، ’’وہ ہائی بلڈ پریشر اور ذیابیطس سمیت متعدد صحت کے مسائل سے دوچار تھے۔ ہفتے کی رات انہیں سانس لینے میں دشواری ہوئی، جس کے بعد ضلع اسپتال لے جایا گیا، جہاں ان کی موت ہوگئی۔ ‘‘




