قومی دارالحکومت نئی دہلی میں پرامن احتجاج کے حق اور تاریخی مقام جنتر منتر کو احتجاجی مقامات کی فہرست سے ہٹائے جانے کے تنازع پر سپریم کورٹ 15 اکتوبر کو تمام متعلقہ عرضیوں پر ایک ساتھ سماعت کرے گی۔ عدالت عظمیٰ نے واضح کیا ہے کہ وہ دہلی میں مظاہروں سے جڑے تمام قانونی پہلوؤں اور انتظامی فیصلوں کا بیک وقت جائزہ لے گی۔ سماعت کے دوران عدالت نے مرکزی حکومت کی جانب سے دو عرضیوں پر تفصیلی جواب داخل کرنے کے لیے مانگی گئی مہلت منظور کرتے ہوئے جمعرات تک کا وقت دیا ہے۔
عدالت کے روبرو زیر سماعت ایک عرضی میں انتظامی حکام کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی شروع کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔ عرضی گزار کے مطابق متعلقہ حکام نے سپریم کورٹ کے آٹھ اکتوبر کے احکامات کی پاسداری نہیں کی، جس میں احتجاجی مظاہروں کے نام پر دہلی میٹرو، ریلوے خدمات اور دیگر ضروری شہری سہولیات پر عائد مکمل پابندیاں ہٹانے کی واضح ہدایت دی گئی تھی۔ ایک اور عرضی میں پولیس کی جانب سے جمہوری مظاہروں میں شریک افراد کو غیر قانونی طور پر حراست میں لیے جانے کا سنگین الزام عائد کرتے ہوئے جواب دہی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
جنتر منتر کو احتجاج کے لیے مختص مقامات کی فہرست سے نکالنے کے دہلی پولیس کے یکطرفہ فیصلے کو عرضی میں براہ راست چیلنج کیا گیا ہے۔ درخواست گزاروں نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ سپریم کورٹ نے 2018 کے اپنے تاریخی فیصلے میں پرامن احتجاج کے بنیادی جمہوری حق اور مقامی رہائشیوں کی سہولت کے مابین ایک معقول توازن قائم کرتے ہوئے جنتر منتر پر محدود اور منظم مظاہروں کی اجازت دی تھی۔ عرضی کے مطابق پولیس کا موجودہ اقدام نہ صرف اعلیٰ عدالت کی اس وقت کی ہدایات کی کھلی خلاف ورزی ہے بلکہ یہ آئین ہند کے تحت حاصل اظہار رائے کی آزادی کو سلب کرنے کے مترادف ہے۔
عرضی میں دہلی پولیس کی جانب سے مظاہرین کے لیے تجویز کردہ متبادل مقامات پر بھی گہری تشویش ظاہر کی گئی ہے۔ عدالت کو بتایا گیا کہ تجویز کردہ نئے مقامات میں سے بعض دہلی کے کچرا پھینکنے کے بڑے مراکز کے نزدیک واقع ہیں، جہاں بدبو اور تعفن کے باعث بنیادی انسانی وقار کے ساتھ جمع ہونا یا دھرنا دینا ناممکن ہے۔ قانونی ماہرین اور عوامی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ احتجاج کے لیے دور دراز یا غیر موزوں جگہیں طے کرنا دراصل عوامی آواز کو دبانے اور ناانصافی کے خلاف منظم احتجاج کو بے اثر کرنے کی ایک کوشش ہے۔
سپریم کورٹ کی جانب سے پندرہ اکتوبر کو ہونے والی یہ سماعت اس لحاظ سے انتہائی اہم ہے کہ اس سے طے ہوگا کہ کیا شہری انتظامیہ سکیورٹی یا نظم و نسق کے نام پر شہریوں کے پرامن اور آئینی احتجاج کے حق کو دارالحکومت کے مرکز سے بے دخل کر سکتی ہے یا نہیں۔ توقع کی جا رہی ہے کہ اس روز عدالت مرکزی حکومت اور دہلی پولیس کے جوابات کی روشنی میں پرامن اجتماع کے بنیادی حقوق اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق حتمی گائیڈ لائنز طے کرے گی۔




