کرناٹک کے دارالحکومت بنگلورو کے تاریخی فریڈم پارک میں جمعرات کے روز انتخابی فہرستوں کے خصوصی سمری ریویژن (ایس آئی آر) عمل میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف ایک بڑا عوامی مظاہرہ دیکھنے میں آیا۔ معروف اداکار و سماجی کارکن پرکاش راج، مقبول یوٹیوبر دھرو راٹھی اور ‘سی جے پی’ کے بانی ابھیجیت دیپکے کی قیادت میں منعقدہ اس احتجاج میں ہزاروں شہریوں، طلبہ اور خواتین نے شرکت کی۔ مظاہرین نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے فوری استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے ووٹر لسٹوں سے جائز شہریوں کے نام مبینہ طور پر غائب کیے جانے کے خلاف سخت نعرے بازی کی۔
مظاہرے کے دوران مختلف مکاتب فکر اور شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے اپنے جمہوری حقوق کے تحفظ کے لیے یکجہتی کا اظہار کیا۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے دھرو راٹھی نے الیکشن کمیشن کے طریقہ کار پر کڑی نکتہ چینی کی اور واضح کیا کہ انتخابی فہرستوں کی نظر ثانی میں نہ تو کوئی شفافیت نظر آ رہی ہے اور نہ ہی جوابدہی کا کوئی نظام موجود ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان کا مقصد حکومت بدلنا نہیں بلکہ آئینی اداروں کو ان کی ذمہ داریوں کا احساس دلانا اور نظام کو شفاف بنانا ہے۔ دوسری جانب پرکاش راج نے ایس آئی آر عمل کو یکسر منسوخ کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ شہریوں کا نام ووٹر لسٹ سے بلا جواز خارج کرنا صرف ووٹ کا معاملہ نہیں بلکہ ہر شہری کے وقار اور جمہوری حقوق پر حملہ ہے۔
مظاہرے میں شریک عام شہریوں نے اپنے تلخ تجربات بیان کیے۔ بنگلورو کے ایک سافٹ ویئر انجینئر مجیب الرحمٰن نے انکشاف کیا کہ انتخابی فہرست سے ان کا نام بغیر کسی پیشگی اطلاع کے غائب کر دیا گیا اور انہیں اس بات کا علم تک نہیں کہ ان کے نام کا اخراج کرنے کے لیے فارم-7 کس نے جمع کرایا تھا۔ انہوں نے زور دیا کہ ملک بھر میں اقلیتوں اور عام شہریوں کے ووٹ کے حق پر شب خون مارا جا رہا ہے، جس کے خلاف تمام طبقات کو متحد ہونا ہوگا۔ شرکاء نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر "ایرر 404 – نام نہیں ملا” اور "ہمیں خارج نہ کریں، ہماری آواز سنیں” جیسے نعرے درج تھے، جبکہ آزادی کے مجاہدین کی تصاویر کے ساتھ آمریت مخالف مطالبات بھی گونجتے رہے۔
احتجاج کے منتظمین نے اعلان کیا ہے کہ ریاست بھر کے متاثرہ شہریوں کے لیے منعقد کی جانے والی اس عوامی عدالت کے بعد حقوق کے تحفظ کے لیے خواتین کی سربراہی میں ایک منظم علامتی مارچ بھی نکالا جائے گا۔ فریڈم پارک اور اطراف کے علاقوں میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے پولیس کی اضافی نفری تعینات رہی، جبکہ مظاہرین نے عزم ظاہر کیا کہ جب تک ووٹر لسٹوں کی درستگی اور شفافیت کی ضمانت نہیں ملتی، تب تک یہ جدوجہد جاری رہے گی۔




