الیکشن کمیشن کے ایس آئی آر عمل پر تحفظات: مرشد آباد میں 99 فیصد سے زائد انتخابی اپیلوں پر سماعت نامکمل

مغربی بنگال کے مسلم اکثریتی ضلع مرشد آباد میں ووٹر لسٹوں کی خصوصی جامع نظرثانی (ایس آئی آر) کے دوران ناموں کے بڑے پیمانے پر اخراج اور اس کے بعد دائر کردہ اپیلوں کی سماعت میں شدید سست روی کا ایک تشویشناک معاملہ سامنے آیا ہے۔ ریسرچ ادارے ‘سیوک ریسرچ گروپ’ (سی آر جی) کی جانب سے جاری کردہ تجزیاتی رپورٹ کے مطابق مرشد آباد میں انتخابی فہرستوں سے نام خارج کیے جانے کے خلاف ریکارڈ کی گئی 3 لاکھ 72 ہزار سے زائد عوامی اپیلوں میں سے 28 ستمبر تک محض 275 اپیلوں پر ہی باضابطہ فیصلہ سنایا گیا ہے، جو کہ مجموعی اپیلوں کا بمشکل 0.07 فیصد بنتا ہے۔ اس کے نتیجے میں 3 لاکھ 71 ہزار 965 اپیلیں تاحال نامکمل اور زیر التوا ہیں، جس سے لاکھوں ووٹرز کے بنیادی آئینی حق پر غیر یقینی صورتحال کے بادل منڈلا رہے ہیں۔

مرشد آباد کے 22 اسمبلی حلقوں میں نظرثانی عمل کے دوران مجموعی طور پر 4 لاکھ 44 ہزار سے زائد ووٹرز کے نام خارج کیے گئے تھے۔ جب محققین نے الیکشن کمیشن کے پورٹل پر ان کے انتخابی شناختی کارڈز (ایپک نمبرز) کی جانچ پڑتال کی تو ان میں سے 96.57 فیصد متاثرہ شہریوں نے اپنے اخراج کے خلاف باضابطہ اپیل دائر کر رکھی تھی۔ ریاست کے تمام 23 اضلاع میں یہ اپیل دائر کرنے کی سب سے بلند ترین شرح ہے، جب کہ پورے مغربی بنگال میں ریکارڈ ہونے والی کل اپیلوں کا تقریباً 19.43 فیصد حصہ اکیلے مرشد آباد سے تعلق رکھتا ہے۔ اس وسیع تر عوامی ردعمل کے باوجود انتظامی سطح پر فیصلوں کا تناسب نہ ہونے کے برابر رہنا جمہوری طریقہ کار اور شہریوں کے بنیادی حقوق پر سنگین سوالات پیدا کر رہا ہے۔

حلقہ وار اعداد و شمار صورتحال کی سنگینی کو مزید نمایاں کرتے ہیں۔ سب سے زیادہ اخراج سمشیر گنج اسمبلی حلقے میں درج کیا گیا جہاں 71 ہزار 985 نام خارج کیے گئے اور 62 ہزار 639 شہریوں نے بحالی کے لیے اپیلیں دائر کیں۔ ان ہزاروں اپیلوں میں سے اب تک صرف 9 کیسز پر فیصلہ ہوا جن میں سے 7 منظور اور 2 مسترد کیے گئے، جبکہ 62 ہزار 630 درخواستیں تاحال سرد خانے کی نذر ہیں۔ اسی طرح لالگولا حلقے میں 51 ہزار سے زائد اپیلوں میں سے صرف 11 پر فیصلہ ہوا، بھگوان گولا میں 37 ہزار 801 اپیلوں کے مقابلے میں محض 10 فیصلے ریکارڈ پر آئے، رگھوناتھ گنج میں 41 ہزار سے زائد زیر التوا کیسز کے درمیان 19 فیصلے ہوئے، جبکہ دومکل اسمبلی حلقے میں درج کی گئی 2 ہزار 910 اپیلوں میں سے کسی ایک پر بھی اب تک فیصلہ نہیں سنایا جا سکا۔ ریاست بھر میں جن دس اسمبلی حلقوں میں سب سے زیادہ نام کاٹے گئے ہیں، ان میں سے سات کا تعلق مرشد آباد سے ہے۔

دسترس میں موجود ریکارڈ میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ یہ اپیلیں کن وجوہات کی بنا پر طویل عرصے سے التوا کا شکار ہیں، آیا متاثرہ ووٹرز کو باضابطہ سماعت کا موقع دیا گیا ہے یا ان سے مزید دستاویزات طلب کی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ ضلع میں 13 ہزار سے زائد ایسے تصدیق شدہ کارڈز بھی موجود ہیں جنہیں پورٹل پر ‘درخواست نہ دی گئی’ کے زمرے میں رکھا گیا ہے، جن کے متعلق خدشہ ہے کہ یہ کاغذی کارروائی کے ذریعے جمع کرائی گئی وہ درخواستیں ہو سکتی ہیں جنہیں عملے نے ابھی تک آن لائن سسٹم میں اپلوڈ نہیں کیا۔ اگرچہ اعداد و شمار بذاتِ خود دانستہ تفریق یا بدنیتی کا براہ راست ثبوت فراہم نہیں کرتے، لیکن اس قدر حساس معاملے میں انتخابی نظام کا غیر معمولی تعطل شہریوں کے جمہوری وجود کو خطرے میں ڈال رہا ہے۔

ووٹر لسٹ سے نام کاٹے جانے اور ان کی داد رسی کے طریقہ کار میں اس درجے کی سست روی ایک ایسے خطے میں گہری تشویش کا باعث بن رہی ہے جہاں آبادی کی اکثریت پہلے ہی سماجی و معاشی چیلنجز سے نبرد آزما ہے۔ رائے دہی کا حق ہر شہری کا وہ بنیادی ستون ہے جو ریاست اور عوام کے رشتے کو قائم رکھتا ہے۔ اگر بروقت شفاف سماعت اور ازالے کا کوئی فعال انتظام نہ کیا گیا تو لاکھوں جائز شہری اپنے حقِ رائے دہی سے محروم ہو سکتے ہیں۔ سول سوسائٹی اور قانونی ماہرین کی جانب سے الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ اپیلوں کے نمٹارے کے عمل کو شفاف، تیز رفتار اور عوامی سطح پر قابلِ رسائی بنایا جائے تاکہ انتخابی نظام پر عوام کا اعتماد بحال رہ سکے۔

شیئر کریں۔