الہ آباد ہائی کورٹ نے سہارنپور پولیس اور ضلعی انتظامیہ کو ہدایت دی ہے کہ وہ عائشہ مسجد میں روزانہ پانچ وقت کی اذان کی ادائیگی میں کسی قسم کی مداخلت نہ کریں۔ عدالتِ عالیہ نے یہ حکم اس شرط کے ساتھ دیا ہے کہ درخواست گزار صوتی آلودگی کے ضوابط اور لاؤڈ اسپیکر کے استعمال سے متعلق عدالت کی سابقہ ہدایات کی مکمل پاسداری کریں گے۔ جسٹس اجیت کمار اور جسٹس گریما پرشاد پر مشتمل ڈویژن بینچ نے یہ حکم شاہ نواز خان اور دیگر پانچ افراد کی جانب سے آئین کی دفعہ 226 کے تحت دائر کردہ رٹ پٹیشن کو نمٹاتے ہوئے جاری کیا۔
درخواست گزاروں نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ عدالتی احکامات کے باوجود مقامی پولیس اور انتظامیہ مسجد میں لاؤڈ اسپیکر پر اذان دینے سے روک رہی ہے۔ دوسری جانب ریاستی حکومت کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ انتظامیہ نے اذان دینے پر کوئی پابندی عائد نہیں کی ہے، بلکہ کارروائی صرف لاؤڈ اسپیکر کے استعمال اور آواز کی مقررہ حد و قانونی اوقات سے متعلق قواعد کے دائرے میں کی جا رہی ہے۔ سماعت کے دوران سرکاری وکیل نے سنہ 2000 کے صوتی آلودگی کے ضوابط اور افضل انصاری بنام ریاست اتر پردیش کیس میں ہائی کورٹ کے سنہ 2020 کے تاریخی فیصلے کا حوالہ دیا۔
سنہ 2020 کے عدالتی فیصلے میں واضح کیا گیا تھا کہ اذان اسلام کا لازمی اور جزوی حصہ ہے، تاہم لاؤڈ اسپیکر یا دیگر صوتی آلات کے ذریعے اس کی ادائیگی کو مذہب کا لازمی جزو قرار نہیں دیا جا سکتا۔ عدالت نے اس وقت یہ نکتہ بھی اٹھایا تھا کہ صوتی آلات کا استعمال امن عامہ، اخلاقیات اور عوامی صحت کے آئینی تقاضوں کے تابع ہے۔ مذکورہ فیصلے کے مطابق رات دس بجے سے صبح چھ بجے کے درمیان مجاز اجازت کے بغیر صوتی آلات کے استعمال پر قانونی پابندی عائد ہے، جب کہ مؤذن کو بغیر لاؤڈ اسپیکر اپنی قدرتی آواز میں مینار سے اذان دینے کی ہر وقت مکمل آزادی حاصل ہے۔
موجودہ معاملے میں عائشہ مسجد کی انتظامیہ اور درخواست گزاروں نے عدالت کو یقین دہانی کرائی کہ وہ قانونی دائرے کے اندر رہتے ہوئے طے شدہ ڈیسیبل اور ضوابط کی مکمل پابندی کریں گے۔ عدالت نے درخواست گزاروں کو ہدایت دی کہ وہ متعلقہ مجاز افسر کے پاس ایک حلف نامہ جمع کروائیں جس میں صوتی آلودگی کے قوانین اور سابقہ عدالتی احکامات پر عمل پیرا رہنے کا عہد کیا جائے۔ عدالت کے مطابق اس حلف نامے کی پیشی کے بعد انتظامیہ پانچوں وقت کی اذان میں رکاوٹ نہیں ڈالے گی، البتہ شرائط کی خلاف ورزی کی صورت میں قانون کے مطابق کارروائی کا حق انتظامیہ کے پاس محفوظ رہے گا۔
اتر پردیش سمیت ملک کے مختلف حصوں میں مساجد میں لاؤڈ اسپیکر کے استعمال اور مذہبی آزادی کے حقوق کا معاملہ مسلسل زیرِ بحث رہا ہے۔ مذہبی آزادی کا تحفظ اور شہری قوانین کے درمیان توازن قائم رکھنے کے حوالے سے یہ فیصلہ واضح کرتا ہے کہ مذہبی عبادات کی ادائیگی ایک مسلمہ حق ہے، بشرطیکہ وہ قانونی دائرہ کار اور صوتی آلودگی کے معیارات کے مطابق ہو۔ اس فیصلے سے مقامی مسلمانوں میں انصاف کی امید بحال ہوئی ہے اور پولیس کے ذریعے غیر ضروری ہراسانی کے خدشات کا ازالہ ممکن ہو سکے گا۔




