بنگلورو (فکروخبر نیوز) کرناٹک میں ووٹر لسٹوں کی خصوصی جامع نظر ثانی (SIR) کے دوران فارم 7 کے مبینہ غلط استعمال اور ووٹرز کے نام حذف کرنے کی کوششوں پر جاری سیاسی ہنگامے میں ریاستی وزیر پریانک کھرگے نے سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ الیکشن کمیشن میں غلط معلومات دینا یا فرضی فارم 7 جمع کرنا قانون کے تحت ایک "مجرمانہ فعل” ہے، جس میں مجرم کو ایک سال کی قید اور جرمانے کی سزا ہو سکتی ہے۔ انہوں نے بی جے پی اور جے ڈی ایس پر الزام لگایا کہ وہ معاشرے کے مخصوص طبقات کو نشانہ بنانے کے لیے ایک "مرکزی سطح کی مجرمانہ سازش” کر رہے ہیں۔
میڈیا نمائندوں سے بات کرتے ہوئے پریانک کھرگے نے بی جے پی قائدین پر سوال اٹھایا کہ وہ بتائیں کہ ان کے کارکنوں کو پہلے سے پرنٹ شدہ (pre-printed) فارم کیسے ملے اور وہ کس کی ایماء پر ہزاروں فارم جمع کرا رہے تھے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ بلاری، بابلیشور، بھالکی اور چک منگلورو جیسے اضلاع میں بی جے پی کارکنوں نے اپنی غلطی تسلیم کرتے ہوئے ای آر اوز اور تحصیلداروں کو تحریری طور پر ہزاروں فارم 7 واپس لینے کی درخواستیں دی ہیں۔ وزیر نے سوال اٹھایا کہ کیا یہ خصوصی جامع نظر ثانی (Special Intensive Revision) ہے یا پھر ‘سنگھ انٹینسیو ریویژن’؟
وزیر نے مزید کہا کہ وجے پورہ اور دیگر اضلاع میں ایسے زندہ افراد کے نام پر فارم 7 جمع کرائے گئے جنہیں مردہ ظاہر کیا گیا تھا، اور جب وہ خود سامنے آ کر شکایت کر رہے ہیں تو پولیس کا فرض ہے کہ وہ قانون کے مطابق مقدمہ درج کرے۔ انہوں نے الیکشن کمیشن کے عملے کے ممکنہ کردار پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر بی جے پی کارکنوں کے پاس ڈیٹا پر مبنی درست ووٹر لسٹ موجود ہے تو اس میں انتخابی عملے کی ملی بھگت کی بھی جانچ ہونی چاہیے۔ انہوں نے صاف کہا کہ ریاستی حکومت اور پولیس آئین اور قانون کے دائرے میں رہ کر ہر ووٹر کے حقِ رائے دہی کا تحفظ کرتی رہے گی۔




