بیلگاوی (فکروخبر نیوز) کرناٹک میں ووٹر لسٹوں کی خصوصی جامع نظر ثانی (SIR) کے دوران فارم 7 کے مبینہ غلط استعمال اور ووٹرز کے نام خارج کرنے کی سازش کے معاملے میں قانونی شکنجہ مزید کس گیا ہے۔ بیلگاوی میں 198 مسلم ووٹرز کے نام کاٹنے کے مقدمے میں نامزد بی جے پی رہنما اور سابق ایم ایل اے ڈاکٹر روی پاٹل اتوار کو بیلگاوی کے مارکیٹ پولیس اسٹیشن میں تفتیشی افسران کے سامنے پیش ہوئے۔ پولیس ذرائع کے مطابق ایس ڈی پی آئی، کانگریس رہنماؤں اور بوتھ لیول ایجنٹس (BLA) کے احتجاج کے بعد پولیس نے روی پاٹل سے تقریباً ساڑھے تین گھنٹے تک سخت پوچھ گچھ کی اور ان کے بیانات قلمبند کیے۔
دوسری جانب وجئے پورہ میں بی جے پی کے متنازعہ ایم ایل اے باسن گوڈا پاٹل یتنال کے اس عوامی دعوے کے بعد کہ بی جے پی کارکنوں نے ایک ہی حلقے میں 20,000 فارم 7 جمع کیے ہیں، انتظامیہ نے سخت ایکشن لیا ہے۔ تحصیلدار مولیٰ حیدر کی ہدایت پر وجئے پورہ کے گاندھی چوک پولیس اسٹیشن میں تعزیرات ہند کی دفعہ 31 (ریپریزنٹیٹو آف دی پیپلز ایکٹ) اور بی این ایس کی دیگر دفعات کے تحت کیس درج کر لیا گیا ہے۔ یتنال نے دعویٰ کیا تھا کہ وجئے پورہ شہر میں 13,000 مسلم ووٹرز اور 7,000 بوگس ووٹوں کی نشان دہی کر کے انہیں حذف کرنے کے فارم جمع کرائے گئے ہیں۔
انتخابات سے متعلق اس سنگین معاملے پر وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار نے بھی الیکشن کمیشن سے کارروائی کا مطالبہ کیا تھا اور بی جے پی پر ووٹر لسٹ سے مخصوص برادری کے نام کاٹنے کی منظم سازش کا الزام لگایا تھا۔ وجئے پورہ میں غیر قانونی طور پر بلک فارم 7 جمع کرنے کے بعد متعدد بی ایل اے ایجنٹس اپنے فارم واپس لینے اور معافی نامہ جمع کرانے پر مجبور ہوئے ہیں۔ پولیس کے مطابق معاملے کی جامع تحقیقات جاری ہیں اور غلط بیانی یا جعلی دستخطوں کے ذریعے ووٹر لسٹ میں ہیرا پھیری کرنے والوں کے خلاف بلا تفریق سخت کارروائی کی جائے گی۔




