گیانیش کمار کے استعفی پر بضد سی جے پی ، 10اکتوبرکو جنترمنتر2.0 کی تیاری

انتخابی فہرستوں میں مبینہ بے ضابطگیوں اور رائے دہندگان کے نام خارج کیے جانے کے سنگین الزامات کے بعد چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کے مطالبے نے زور پکڑ لیا ہے। سیاسی مہم کاک روچ جنتا پارٹی (سی جے پی) نے واضح الٹی میٹم جاری کیا ہے کہ اگر چیف الیکشن کمشنر مستعفی نہ ہوئے تو دس اکتوبر کو ملک بھر کے عوام دارالحکومت دہلی کی جانب مارچ کریں گے اور تاریخی جنتر منتر پر غیر معینہ مدت کے لیے احتجاجی دھرنا شروع کیا جائے گا۔ مہم کے بانی ابھیجیت دیپکے نے پرامن احتجاج کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر پولیس نے انہیں روکنے کی کوشش کی تو جس مقام پر بھی روکا جائے گا، وہیں دھرنا دیا جائے گا۔

اس سے قبل جمعہ کے روز ملک کے دونوں بڑے مراکز دہلی اور ممبئی میں الیکشن کمیشن کے خلاف بڑے پیمانے پر مظاہرے کیے گئے। نئی دہلی میں جنتر منتر کے اطراف احتجاج کرنے والے سات سو سے زائد مظاہرین اور سرکردہ سیاسی رہنماؤں کو دہلی پولیس نے حراست میں لے لیا। حراست میں لیے جانے والوں میں عام آدمی پارٹی کی رہنما آتشی، سوربھ بھاردواج، راشٹریہ جنتا دل کے رکن پارلیمنٹ منوج جھا اور طلبہ تنظیم آئیسا کی سربراہ نیہا بورا شامل تھیں، جنہیں بعد ازاں رہا کر دیا گیا۔ کشیدگی کے پیش نظر پولیس نے جنتر منتر کے ارد گرد انٹرنیٹ سروسز معطل کر دیں اور وزیر اعظم کی رہائش گاہ کے قریب لوک کلیان مارگ، راجیو چوک، پٹیل چوک اور کناٹ پلیس سمیت دہلی میٹرو کے بارہ اسٹیشنوں کے داخلی و خارجی راستے عام مسافروں کے لیے بند کر دیے گئے۔

دوسری جانب ممبئی کے شیواجی پارک میں بھی ہزاروں افراد نے جمع ہو کر چیف الیکشن کمشنر کے خلاف زبردست نعرے بازی کی۔ ممبئی پولیس کی جانب سے اجازت نہ ملنے کے باوجود طلبہ، نوجوانوں اور معروف شخصیات نے ریلی میں حصہ لیا۔ مظاہرین نے کہا کہ جون 2025 سے شروع کی گئی انتخابی فہرستوں کی خصوصی جامع نظرثانی یعنی ایس آئی آر کے تحت قانونی ووٹروں کے نام بڑے پیمانے پر خارج کیے جا رہے ہیں، جس سے جمہوری حقوق پامال ہو رہے ہیں اور عام انتخابات کے نتائج کو متاثر کرنے کی دانستہ کوشش کی جا رہی ہے۔ بائیں بازو کی جماعتوں اور ان کی طلبہ تنظیموں نے بھی سنیچر کو جنتر منتر پر دھرنا جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔

مظاہرین کے اس غصے کو اس وقت مزید تقویت ملی جب تئیس ستمبر کو دی انڈین ایکسپریس کی ایک تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ الیکشن کمشنر سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی نے انتخابی فہرستوں کی نظرثانی سے متعلق فیصلوں پر گزشتہ دس ماہ میں چودہ مرتبہ باضابطہ تحریری اعتراضات درج کرائے تھے। رپورٹ کے مطابق نئے ووٹر رجسٹریشن فارم 6 میں تبدیلیاں، مغربی بنگال میں ووٹروں کی شمولیت کے خلاف اپیلیں اور گوا میں ووٹر ڈیٹا کو نمٹانے جیسے اہم فیصلے الیکشن کمشنرز کے علم میں لائے بغیر کیے گئے۔ سکھبیر سندھو نے ایک تحریری اعتراض میں یہاں تک واضح کیا کہ انتخابی پینل نے کمشنرز کے مشورے کے برعکس کام کیا جو کہ غیر مجاز اور غیر قانونی ہے۔

حزب اختلاف کی جماعتوں نے بھی گیانیش کمار کی فوری برطرفی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ آزادانہ، منصفانہ اور شفاف انتخابات کے بغیر جمہوریت کی بقا ممکن نہیں۔ دوسری جانب الیکشن کمیشن نے ان الزامات پر وضاحت دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ مسودے کے مراحل کے دوران کمیشن کے اراکین کی طرف سے انتظامی سوالات یا رائے کا اظہار ایک معمول کا حصہ ہے جس کا مقصد ووٹروں کے حقوق کی حفاظت کرنا ہے۔ تاہم الیکشن کمیشن کی وضاحت کے باوجود سول سوسائٹی اور سیاسی حلقوں کے شکوک و شبہات دور نہیں ہو سکے ہیں۔

انتخابی مبصرین کے مطابق ووٹر لسٹوں سے مخصوص طبقات، بالخصوص پسماندہ اور اقلیتی رائے دہندگان کے نام خارج ہونے کے بڑھتے ہوئے الزامات نے ملک کے انتخابی نظام کے وقار پر گہرے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ دس اکتوبر کے مجوزہ مارچ کے پیش نظر مرکز اور دہلی انتظامیہ پر دباؤ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، اور اگر اس بحران کا کوئی قانونی اور شفاف حل نہ نکالا گیا تو یہ احتجاج ملک گیر عوامی تحریک میں تبدیل ہو سکتا ہے۔

شیئر کریں۔