اتراکھنڈ کے کوٹ دوار میں واقع ایک مقامی عدالت نے جم اونر دیپک کمار کو دھمکی دینے کے مبینہ مقدمے میں گرفتاری کے چوبیس گھنٹے کے اندر ضمانت پر رہا کرنے کا حکم جاری کر دیا ہے۔ دیپک کمار رواں برس اس وقت قومی سطح پر سرخیوں میں آئے تھے جب انہوں نے ایک مسلم دکاندار کو ہراساں کرنے والے بجرنگ دل کے کارکنان کا ڈٹ کر سامنا کیا تھا اور اپنا نام ’محمد دیپک‘ بتا کر فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی علامت بن گئے تھے۔
پولیس نے جمعرات کی شام دیپک کمار کو ایک مقامی تاجر سنجیو ٹونک کی شکایت پر حراست میں لیا تھا۔ جمعہ کی شام ساڑھے چھ بجے انہیں کوٹ دوار میں سب ڈویژنل مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں عدالت نے پچاس پچاس ہزار روپے کے تین ضمانتی مچلکے جمع کروانے پر ان کی ضمانت منظور کر لی۔ عدالت نے بھارتیہ ناگرک سورکشا سنہتا (بی این ایس ایس) کی دفعہ 130 کے تحت ایک نوٹس جاری کرتے ہوئے انہیں آئندہ چھ ماہ تک امن و امان برقرار رکھنے کا پابند بھی کیا ہے۔
مقدمے کی تفصیلات کے مطابق تنازع کی شروعات سوشل میڈیا پر ہونے والی ایک بحث سے ہوئی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ تاجر سنجیو ٹونک نے دیپک کمار کی ایک سوشل میڈیا پوسٹ پر تبصرہ کیا تھا، جس کے بعد مبینہ طور پر دیپک جمعرات کی صبح ساڑھے دس بجے ٹونک کی دکان پر پہنچے جہاں دونوں کے درمیان تلخ کلامی اور مبینہ دھمکیوں کا تبادلہ ہوا۔ پولیس نے ابتدائی طور پر بھارتیہ نیائے سنہتا (بی این ایس) کی دفعات 351(2) اور 352 کے تحت مقدمہ درج کیا تھا، تاہم سی سی ٹی وی فوٹیج اور تفتیش کی بنیاد پر بعد میں نفرت پھیلانے سے متعلق دفعہ 196 اور نقصان پہنچانے سے متعلق دفعہ 115 کا بھی اضافہ کر دیا گیا۔
پولیس انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ امن و امان کی صورتحال خراب ہونے سے روکنے اور کشیدگی کے خدشے کے پیش نظر بی این ایس ایس کی دفعہ 170 کے تحت احتیاطی حراست عمل میں لائی گئی تھی۔ دوسری جانب مقامی شہریوں اور سول سوسائٹی کے ارکان کا کہنا ہے کہ دیپک کمار کو اقلیتی برادری کے حق میں کھڑے ہونے کی وجہ سے بعض مخصوص حلقوں کی جانب سے مسلسل نشانہ بنایا جا رہا تھا، اور معمولی لفظی تکرار کو سنگین نوعیت کی دفعات میں تبدیل کیا گیا۔
رواں برس جنوری میں سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی تھی جس میں بجرنگ دل کے کارکن ایک مسلم دکاندار کی دکان کے نام پر اعتراض کر رہے تھے اور اسے بند کروانے کے درپے تھے۔ اس موقع پر دیپک کمار نے اکیلے سامنے آ کر ہندوتوا کارکنوں کی بدسلوکی کی مخالفت کی تھی اور اقلیتی شہری کے قانونی و آئینی روزگار کے حق کا دفاع کیا تھا۔ اس واقعے نے پورے ملک میں ان کے جرأت مندانہ قدم کو سراہنے پر مجبور کیا تھا، جبکہ دائیں بازو کے گروہوں کی طرف سے ان پر دباؤ بھی بڑھ گیا تھا۔ عدالت سے ضمانت ملنے کے بعد علاقے میں پیدا ہونے والی تشویش فی الوقت تھم گئی ہے، البتہ پولیس کا کہنا ہے کہ معاملے کی قانونی جانچ مکمل ضابطوں کے تحت جاری رہے گی۔




