کرناٹک میں شدید خشک سالی اور پانی کی قلت نے باغبانی کے شعبے کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ محکمہ باغبانی کے تازہ ترین سروے کے مطابق ریاست بھر میں 84,656 ہیکٹر پر پھیلے ناریل کے باغات مکمل یا جزوی طور پر تباہ ہو چکے ہیں، جس کے نتیجے میں کاشتکاروں کو تقریباً 59,259 لاکھ روپے (592 کروڑ روپے سے زائد) کا براہ راست نقصان پہنچا ہے۔ زرعی اور باغبانی ماہرین نے متنبہ کیا ہے کہ ناریل کے درختوں کے قدرتی نشوونما کے طویل چکر کی وجہ سے اس قحط سالی کے منفی اثرات محض رواں سیزن تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ اگلے تین سال تک پیداوار اور قیمتوں پر اثر انداز ہوتے رہیں گے۔
حکومت کرناٹک کی ہدایت پر محکمہ باغبانی، محکمہ مالیات اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی جانب سے شدید متاثرہ 124 تعلقہ جات میں تفصیلی سروے کیا گیا، جس میں یہ بات کھل کر سامنے آئی کہ ریاست کی تمام باغبانی فصلوں میں سب سے زیادہ نقصان ناریل کی کاشت کو ہوا ہے، جس کے بعد پیاز اور دیگر سبزیوں کی فصلیں متاثر ہوئی ہیں۔ ریاست میں مجموعی طور پر تقریباً 5.6 لاکھ ہیکٹر رقبے پر ناریل کی کاشت ہوتی ہے، جس میں سے بڑے حصے کو پانی کی شدید قلت نے جھلسا دیا ہے۔ اس فہرست میں مزید 50 تعلقہ جات کو شامل کیا گیا ہے جن میں تمکورو اور چتردرگہ کے علاقے شامل ہیں، جہاں آئندہ پندرہ دنوں میں باضابطہ نقصان کا تخمینہ لگایا جائے گا، جس سے تباہی کے اعداد و شمار میں مزید اضافے کا امکان ہے۔
ابتدائی رپورٹ کے مطابق ضلع حسن اس بحران سے بدترین طور پر دوچار ہوا ہے، جہاں 97,999 ہیکٹر میں سے 84,541 ہیکٹر اراضی پر ناریل کی فصل کو زبردست زک پہنچی ہے، جبکہ ضلع ہاویری میں بھی 115 ہیکٹر سے زائد رقبہ متاثر ریکارڈ کیا گیا ہے۔ محکمہ باغبانی کے جوائنٹ ڈائریکٹر شکیل احمد کے مطابق شدید گرمی اور زیر زمین پانی کی سطح گرنے سے درختوں میں پھول آنے اور پھل لگنے کا پورا نظام درہم برہم ہو جاتا ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ ناریل کے درخت کی جڑیں سوکھ جانے کے سبب کھاد اور پانی جذب کرنے کی صلاحیت کھو دیتی ہیں، جس کی وجہ سے پیدا ہونے والا خسارہ تقریباً 36 ماہ یعنی تین سال تک کسانوں، زرعی مزدوروں اور مارکیٹ کی معیشت پر بوجھ بنتا رہے گا۔ کیرالہ کے بعد کرناٹک ملک میں ناریل پیدا کرنے والی دوسری بڑی ریاست ہے، لیکن بیشتر کسان ڈرپ اریگیشن اور بورویل پر منحصر ہیں جو رواں برس خشک ہو چکے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ خشک سالی نے درختوں کو کمزور کر دیا ہے جس کے باعث رگوز اسپائرلنگ وائٹ فلائی اور بلیک ہیڈڈ کیٹرپلر جیسے کیڑوں اور مختلف امراض نے باغات پر حملہ بول دیا ہے۔ زرعی سائنس یونیورسٹی بنگلور کے سابق وائس چانسلر ڈاکٹر کے نارائن گوڑا نے حکومت کو دی گئی سفارشات میں واضح کیا ہے کہ محض مالی معاوضہ کسانوں کے اس طویل مدتی نقصان کا مداوا نہیں کر سکتا بلکہ سائنسی بنیادوں پر بیماریوں کی روک تھام اور پودوں کے تحفظ کے ٹھوس اقدامات ناگزیر ہیں۔ مقامی کاشتکاروں کا کہنا ہے کہ فی ایکڑ پیداوار جو پہلے 90 سے 100 ناریل ہوا کرتی تھی، اب گھٹ کر 30 سے 50 تک رہ گئی ہے، جس نے دیہی معیشت کو شدید بحران میں دھکیل دیا ہے۔




