بھٹکل کی ممتاز سماجی اور ملی تنظیم ’مجلسِ اصلاح و تنظیم‘ نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو فوری طور پر عہدے سے برطرف کرنے اور ان کے خلاف غداری کا مقدمہ درج کر کے اعلیٰ سطحی تحقیقات کا حکم دینے کے لیے صدرِ جمہوریہ ہند سے مداخلت کی باضابطہ اپیل کی ہے। تنظیم نے 26 ستمبر کو جاری کردہ اپنے تفصیلی پریس بیان میں 23 ستمبر کو روزنامہ ’دی انڈین ایکسپریس‘ کی تحقیقاتی رپورٹ میں سامنے آنے والی تشویشناک معلومات کو بنیاد بنایا ہے۔ بیان کے مطابق انتخابی کمیشن کے اندرونی فیصلوں میں غیر قانونی طریقہ کار اور ووٹرز کے حقوق سلب کرنے کے اقدامات واضح ہو چکے ہیں، جس کے بعد اعلیٰ انتخابی منصب پر فائز شخصیت کے خلاف تادیبی کارروائی ناگزیر ہو چکی ہے۔
تنظیم نے خصوصی ووٹر لسٹ نظرثانی یعنی ایس آئی آر کے جاری عمل پر سنگین اعتراضات عائد کرتے ہوئے اسے بدنیتی پر مبنی اور ووٹرز کے آئینی حقوق چھیننے والا اقدام قرار دیا ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ بغیر قانونی اختیار کے نافذ کیے گئے اس نظام نے عوام کے ووٹنگ حقوق پر براہِ راست ڈاکہ ڈالا ہے، اس لیے ایس آئی آر کو فی الفور منسوخ کر کے پہلے سے موجود مستند انتخابی فہرستوں کو ہی بحال رکھا جائے۔ مجلسِ اصلاح و تنظیم نے کرناٹک کے اضلاع بیلگام اور بیدر کے علاقے بھالکی کا خصوصی تذکرہ کرتے ہوئے الزام لگایا کہ وہاں مسلم ووٹرز کے نام غیر قانونی اور منظم سازش کے تحت ووٹر لسٹوں سے خارج کرنے کی کوششیں سامنے آئی ہیں۔ تنظیم نے متنبہ کیا کہ اقلیتوں کے ووٹ کٹوانے میں ملوث افراد کے خلاف بغیر کسی تاخیر کے سخت ترین قانونی چارہ جوئی کی جائے۔
انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مندرجات کا حوالہ دیتے ہوئے پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ خود الیکشن کمیشن کے دو معزز اراکین، الیکشن کمشنر سکھبیر سنگھ سندھو اور الیکشن کمشنر وویک جوشی نے گزشتہ دس ماہ کے دوران کم از کم چودہ مرتبہ چیف الیکشن کمشنر کی جانب سے ان کی لا علمی میں جاری کردہ احکامات پر باضابطہ اعتراض ریکارڈ کرایا ہے۔ ان احکامات میں نئے ووٹرز کے اندراج، نام خارج کرنے، مجاز جوڈیشل افسران کے ذریعے دوبارہ بحال کیے گئے ووٹرز کے خلاف اپیلیں دائر کرنے اور انتخابی فہرستوں کے ڈیجیٹل ڈیٹا کو سنبھالنے جیسے انتہائی نازک امور شامل تھے۔ رپورٹ کے مطابق الیکشن کمشنر سندھو نے ایسے اقدامات کو غیر مجاز اور غیر قانونی تک قرار دیا، جبکہ الیکشن کمشنر وویک جوشی نے نشاندہی کی تھی کہ قواعد میں ترمیم کے بغیر فارم 6 میں ردوبدل ممکن نہیں تھا، اس کے باوجود یہ تبدیلیاں نافذ کی گئیں اور الیکشن کے قانونی ڈیٹا کو لوکل افسران کے اختیارات سے چھین کر مرکزیت دی گئی۔
مجلسِ اصلاح و تنظیم نے سوال اٹھایا ہے کہ دونوں الیکشن کمشنرز کے تحریری اعتراضات کے باوجود چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار نے یہ آئین مخالف اور عوامی مفادات کے منافی فیصلے کس کے ایما پر کیے؟ تنظیم کے مطابق شفاف حقائق صرف اس وقت سامنے آ سکتے ہیں جب صدرِ جمہوریہ فوری مداخلت کر کے انہیں عہدے سے ہٹائیں اور اگر وہ مستعفی نہ ہوں تو پارلیمنٹ کے ذریعے فوری طور پر مواخذے کی کارروائی شروع کی جائے۔ بیان میں 2023 کے اس قانون کو بھی منسوخ کرنے کا پرزور مطالبہ کیا گیا جس کے تحت الیکشن کمشنرز کی تقرری کا مکمل اختیار مرکز نے اپنے ہاتھ میں لے کر انہیں عمر بھر قانونی استثنیٰ فراہم کر دیا ہے۔ تنظیم نے تمام اہم اپوزیشن جماعتوں پر زور دیا ہے کہ وہ انتخابی ادارے کو مکمل جمہوری اور شفاف بنانے کے لیے ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا ہو کر مشترکہ تحریک چلائیں۔




