بنگلورو: کرناٹک کے وزیر برائے آبکاری اور ضلع ہاسن کے انچارج وزیر کے ایم شیولنگے گوڑا کے ایک مبینہ بیان نے ریاست میں سیاسی طوفان کھڑا کر دیا ہے۔ ہاسن ضلع کے سکلیش پور میں منعقدہ ‘پراجا سیوا آندولن’ کے ایک پروگرام کے دوران جب عوام نے سرکاری افسران کے ذریعے کام کاج کے لیے رشوت مانگنے کی شکایت کی، تو وزیر موصوف نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ افسران اپنا کام کریں گے، اس کے بعد "آپ جو بھی دینا چاہتے ہیں احترام کے ساتھ دے سکتے ہیں لیکن کوئی بھی زبردستی پیسے نہ لے”۔ وزیر کے اس بیان کو عوامی اور سیاسی حلقوں میں افسران کو رشوت دینے کی ترغیب کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
اس بیان کی ویڈیو وائرل ہوتے ہی اپوزیشن پارٹی بی جے پی نے کانگریس حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا۔ قائدِ حزبِ اختلاف آر اشوک نے سخت ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے الزام لگایا کہ وزیراعلیٰ ڈی کے شیواکمار کی حکومت عوام کی سنوا کے نام پر اب کھلے عام رشوت دینے کی ترغیب دے رہی ہے۔ بی جے پی ایم ایل اے بھرت شیٹی نے بھی طنز کرتے ہوئے کہا کہ کرناٹک کے وزیر عوام کو سکھا رہے ہیں کہ افسران کو عزت و احترام کے ساتھ رشوت کیسے دی جائے۔
شدید تنقیدوں اور تنازعہ بڑھنے کے بعد وزیر شیولنگے گوڑا نے اپنے بیان پر وضاحت جاری کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے الفاظ کو غلط رنگ دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کسی کو رشوت دینے کا نہیں کہا بلکہ یہ کہا تھا کہ کام کرنے والے افسران کو ’احترام‘ (عزت) دی جائے۔ انہوں نے بی جے پی پر الزام لگایا کہ وہ ایک مختصر اور ایڈٹ شدہ ویڈیو کلپ وائرل کر کے حکومت کو بدنام کرنے اور ان کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی گھناؤنی سیاست کر رہی ہے۔ دوسری جانب سماجی کارکن دنیش کلاہلی نے اس معاملے پر ریاست کے گورنر تھاور چند گہلوت سے شکایت درج کرائی ہے۔




