ٹی ایم سی انتخابی نشان تنازعہ: ممتا بنرجی کی عرضی پر سپریم کورٹ فوری سماعت کے لیے تیار، الیکشن کمیشن کے فیصلے کو چیلنج

سپریم کورٹ نے مغربی بنگال میں ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کے تنظیمی تنازعے اور انتخابی نشان منجمد کیے جانے کے خلاف دائر کردہ ممتا بنرجی کی درخواست پر فوری سماعت کے لیے آمادگی ظاہر کر دی ہے۔ چیف جسٹس آف انڈیا جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی والی بنچ کے روبرو سینئر وکیل کپل سبل نے اس معاملے کو فوری نوعیت کا قرار دیتے ہوئے ترجیحی بنیادوں پر فہرست میں شامل کرنے کی استدعا کی، جسے عدالتِ عظمیٰ نے قبول کر لیا۔

ممتا بنرجی کی جانب سے دائر کردہ اس آئینی درخواست میں الیکشن کمیشن آف انڈیا (ای سی آئی) کے 17 ستمبر کے عبوری فیصلے کو براہ راست چیلنج کیا گیا ہے۔ کپل سبل نے عدالت کو بتایا کہ انتخابی ادارے نے ایک غیر معمولی اقدام کے تحت اصل پارٹی کے نام اور دہائیوں پرانے انتخابی نشان کے استعمال پر پابندی عائد کر دی ہے۔ ان کا موقف تھا کہ الیکشن کمیشن اپنے اختیارات کے دائرے سے باہر جا کر نامناسب فیصلے لے رہا ہے جس سے جمہوریت کے تسلیم شدہ اصول متاثر ہو رہے ہیں، لہٰذا اس عبوری حکم پر فوری روک لگائی جائے۔

پارٹی کے اندرونی بحران کے پس منظر میں الیکشن کمیشن نے آئندہ ماہ ہونے والے ضمنی انتخابات سے قبل دونوں دھڑوں کے لیے الگ الگ نام اور عارضی انتخابی نشان الاٹ کیے تھے۔ اس فیصلے کے تحت ممتا بنرجی دھڑے کو ’ممتا آل انڈیا ترنمول کانگریس‘ کا نام اور ’فٹبال کھلاڑی‘ کا انتخابی نشان دیا گیا، جبکہ مخالف رتبرت بنرجی اور اروپ رائے کے دھڑے کو ’ڈیموکریٹک ترنمول کانگریس‘ کا نام اور ’لفافہ‘ انتخابی نشان مختص کیا گیا۔

گزشتہ تقریباً تین دہائیوں سے مغربی بنگال کی سیاست میں ترنمول کانگریس اور اس کا روایتی نشان ’پھول اور گھاس‘ ایک مستحکم عوامی شناخت کی علامت رہے ہیں۔ سیاسی ماہرین کے مطابق انتخابی نشان کا منجمد ہونا اور قیادت کی کھینچ تان ریاستی سیاست پر دور رس اثرات مرتب کر سکتی ہے، بالخصوص ریاست کے پسماندہ طبقات اور اقلیتوں کے سیاسی مستقبل کے حوالے سے شکوک و شبہات جنم لے رہے ہیں جو اس جماعت کو اپنا بڑا سیاسی سہارا تصور کرتے رہے ہیں۔

قانونی اور سیاسی حلقوں کی نظریں اب سپریم کورٹ کے متوقع فیصلے پر ٹکی ہیں، کیونکہ عدالت کی جانب سے دیا جانے والا کوئی بھی عبوری حکم ضمنی انتخابات اور ریاست کی مجموعی سیاسی صورتحال کا رخ طے کرنے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔ الیکشن کمیشن کے کردار پر اٹھنے والے سوالات کی روشنی میں اس مقدمے کی سماعت ملک کے جمہوری اداروں کے توازن اور شفافیت کے لیے بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔

شیئر کریں۔