بنگلورو (فکروخبرنیوز) کرناٹک کے چیف الیکٹورل آفیسر (سی ای او) کے دفتر نے ان خبروں کی سختی سے تردید کی ہے جن میں یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ ملک کے معروف سائنسداں اور ‘بھارت رتن’ ایوارڈ یافتہ پروفیسر سی این آر راؤ کو ووٹر لسٹ میں نام کے تفاوت پر کوئی نوٹس جاری کیا گیا ہے۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہ وضاحت کے مطابق اس حوالے سے میڈیا میں نشر ہونے والی رپورٹس حقائق کے منافی ہیں۔
تفصیلات کے مطابق پروفیسر سی این آر راؤ کا نام 157-ملیشورم اسمبلی حلقے کے پولنگ پارٹ نمبر 59 میں بطور ووٹر درج ہے۔ ووٹر لسٹ کی خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) کے دوران موجودہ ڈرافٹ لسٹ اور 2002 کی ووٹر لسٹ کے درمیان نام میں کچھ تکنیکی تفاوت پایا گیا تھا، جہاں موجودہ لسٹ میں نام "Proff C.N. Rao S/O Nagesh Rav. H” جبکہ 2002 کی لسٹ میں "Rama S/O H. Nagesh” درج تھا۔
الیکشن حکام نے بتایا کہ پروفیسر راؤ کی علمی اور قومی خدمات کے پیش نظر اعلیٰ حکام نے خود ان کی رہائش گاہ کا دورہ کیا۔ اس وفد میں ریاستی سویپ (SVEEP) نوڈل آفیسر، بنگلورو ویسٹ کارپوریشن کے کمشنر، ملیشورم کے الیکشن رجسٹریشن آفیسر (ERO) اور مقامی بوتھ لیول آفیسر (BLO) شامل تھے، جنہوں نے ذاتی طور پر ان سے ملاقات کی اور فارم حوالے کیا۔
حکام نے واضح کیا کہ پروفیسر راؤ یا ان کے اہل خانہ کو کوئی باضابطہ نوٹس جاری نہیں کیا گیا تھا۔ اس کے بجائے، بی ایل او نے ریکارڈ کی درستگی کی سفارش براہ راست ایڈیشنل الیکشن رجسٹریشن آفیسر (AERO) کو کی، جس کی منظوری کے بعد 8 ستمبر 2026 کو اس اندراج کو فائنل ووٹر لسٹ میں شامل کر لیا گیا۔ ملیشورم کے ای آر او نے اس معاملے پر باضابطہ بیان جاری کر دیا ہے جبکہ بی ایل او نے بھی اس تمام کارروائی کی ویڈیو دستاویزات فراہم کی ہیں۔ الیکشن کمیشن نے یہ وضاحت اس لیے جاری کی ہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ کسی قسم کی غلط فہمی نہ پھیلے۔




