امت کی کامیابی کا راز کلامِ الٰہی سے وابستگی میں ہے : مولانا عبدالسبحان ندوی مدنی
بھٹکل (فکروخبر نیوز) بھٹکل کے ‘مسجد امام شافعی’ میں روحانی محفل "جلسہ ختمِ تفسیرِ قرآن” کا انعقاد عمل میں آیا، جس میں علماء اور عوام نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ اس پرنور تقریب میں قرآن مجید کی آخری سورتوں کے درسِ تفسیر کے ساتھ قرآن کریم کی تفسیر مکمل ہونے کی سعادت پر اللہ رب العزت کا شکر ادا کیا گیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ مساجد سے درسِ قرآن کا یہ سلسلہ آئندہ بھی جاری رہے گا۔
جلسے کا آغاز حافظ محمد سعد ابن اسماعیل کی تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا۔ جس کے بعد مہمانِ خصوصی اور مشہور عالمِ دین، مفسرِ قرآن و شعلہ بیان خطیب حضرت مولانا عبدالسبحان ناخدا ندوی نے اختتامی سورتوں کی تفسیر پیش کی اور اختتامی نشست سے بصیرت افروز خطاب فرمایا۔ انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ قرآن مجید سے وابستگی ہی انسان کی دارین کی کامیابی کی ضامن ہے۔ اللہ کا کلام ہدایت کا سرچشمہ ہے اور اس کے فہم کو عام کرنا ہمارے دور کی بنیادی ضرورت ہے۔ مولانا نے واضح کیا کہ ظاہری طور پر دورِ تفسیر کی تکمیل ہوئی ہے مگر کلامِ الٰہی کے علوم و معارف کا یہ مبارک سلسلہ ان شاء اللہ سورہ فاتحہ سے دوبارہ شروع ہو کر ہمہ وقت جاری رہے گا۔
اپنے خطاب کے دوران مولانا عبدالسبحان ندوی نے جمعیت امام شافعی کے صدر، امام مولانا انصار خطیب ندوی مدنی کی دینی خدمات، فکرِ آخرت اور طلباء و عوام کی تربیت کے جذبے کا بالخصوص ذکر کیا اور ان کی کاوشوں کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ اس مسجد کی بنیاد کے وقت سے لے کر آج تک یہاں مکتب، تحفیظ اور درسِ تفسیر کے متحرک نظام قائم ہونا اور عوام کا اس سے مستفید ہونا اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور مخلصانہ محنتوں کا نتیجہ ہے۔
پروگرام کے اختتام پر حضرت مولانا عبدالسبحان ندوی نے باری تعالیٰ کی بارگاہ میں رقت انگیز دعا فرمائی، جس میں امت مسلمہ کی حفاظت، مساجد و مدارس کے استحکام، شہر بھٹکل کی امن و سلامتی اور مرحومین کی مغفرت کے لیے بالخصوص التجا کی گئی۔
اس موقع پر قاضی جماعت المسلمین بھٹکل مولانا عبدالرب ندوی ، بانی وجنرل سکریٹری مولانا ابوالحسن علی ندوی اسلامک اکیڈمی بھٹکل مولانا محمد الیاس ندوی ، امام مسجد اور نائب قاضی جماعت المسلمین بھٹکل مولانا محمد انصار ندوی مدنی اور مولانا محمد یونس ندوی وغیرہ نے بھی اپنے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
نظامت کے فرائض ڈاکٹر عبدالحفیظ خان ندوی نے انجام دیئے۔




