بھٹکل (فکروخبر نیوز) بھٹکل کے اہم قومی و اجتماعی مسائل کے حل، تعلیمی و اقتصادی فروغ اور معاشرتی اصلاح کے لیے منعقد کی گئی "پانچویں بین الجماعتی کانفرنس” کی تجاویز کو مؤثر طور پر نافذ کرنے کے لیے کنوینر اور نائب کوینر کا انتخاب عمل میں آچکا ہے۔ ۔ 27 اگست 2026 کو منعقدہ بین الجماعتی کونسل کے اہم اجلاس میں متفقہ طور پر آئندہ پانچ سالہ میعاد کے لیے جناب مولوی عبدالرقیب ایم جے ندوی کو کنوینر اور جناب عبدالواجد کولا کو نائب کنوینر منتخب کیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ رواں سال 17، 18 اور 19 جنوری 2026 کو ایم ایم ریزورٹ، شیرور میں پانچویں بین الجماعتی کانفرنس منعقد ہوئی تھی، جس کے بعد 11 اور 12 فروری 2026 کو مردوں اور خواتین کے لیے علیحدہ علیحدہ عمومی اجلاس عام بھی منعقد کیے گئے تھے۔ اس کانفرنس میں طلبہ کی مؤثر ذہن سازی، تربیت ورہنمائی، شبینہ مکاتب کا استحکام، تعلیم بالغاں، قومی و سیاسی قیادت کے لیے موثر حکمت عملی، میونسپلٹی و پنچایت کے کونسلروں کے انتخاب کی منصوبہ بندی، سرکاری مراعات سے استفادہ، تعلیم یافتہ و بے روزگار نوجوانوں کے لیے تجارتی و سرمایہ کاری کے مواقع، معاشرتی بے راہ روی اور منشیات کی روک تھام، اخلاقی بگاڑ کا سد باب، منگنی و شادی بیاہ میں رائج غیر شرعی رسوم و رواج کا خاتمہ، غیر سودی مالیاتی اداروں کا قیام ، خلع و طلاق کی بڑھتی ہوئی شرح پر قابو پانے، مساجد کو مرکز بنا کر اصلاح معاشرہ کے کام فروغ دینے، وراثت کی بر وقت تقسیم ، بھٹکل کمیونیٹی کا ڈیجیٹل ڈیٹا بیس، اجتماعی فیصلوں کے مؤثر نفاذ ، کھیلوں میں اسراف کی روک تھام اور باہمی اتحاد، اخوت و دینی ہم آہنگی سمیت متعدد اہم تجاویز منظور کی گئی تھیں۔؎
ان فیصلوں کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ایک 32 رکنی بین الجماعتی کونسل تشکیل دی گئی ہے، جس میں بھٹکل کے پانچ مرکزی اداروں (مجلسِ اصلاح و تنظیم، انجمن حامیِ مسلمین، جامعہ اسلامیہ، جماعت المسلمین اور مرکزی خلیفہ جماعت المسلمین) کے علاوہ بھٹکل مسلم خلیج کونسل، انڈین نوائط فورم، بھٹکل مسلم یوتھ فیڈریشن اور ابناء جامعہ اسلامیہ کے نمائندگان شامل ہیں۔
پانچویں بین الجماعتی کانفرنس کے کنوینر جناب میری عتیق الرحمن صاحب نے ایک پریس نوٹ کے ذریعے نومنتخب کنوینر مولوی عبدالرقیب ایم جے ندوی اور نائب کنوینر عبدالواجد کولا کو دلی مبارکباد پیش کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ نئی قیادت اپنی تمام تر صلاحیتوں کو برائے کار لاتے ہوئے بین الجماعتی کونسل کو معاشرے کے لیے ایک متحرک و فعال پلیٹ فارم بنائے گی اور منظور شدہ تجاویز پر عمل درآمد کو یقینی بنائے گی۔




