کرناٹک کے وزیر برائے اعلیٰ تعلیم بسواراج رایا ریڈی کی جانب سے اسلام کی اخلاقی تعلیمات اور برابری کے پیغام کی تعریف کرنے پر ریاست کی اپوزیشن جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی نے سخت احتجاج کرتے ہوئے ان سے غیر مشروط معافی اور استعفے کا مطالبہ کر دیا ہے۔ یہ تنازع اس وقت پیدا ہوا جب ریاستی وزیر نے ضلع کوپل میں منعقدہ مسلم برادری کی اجتماعی شادیوں کی ایک تقریب سے خطاب کے دوران اسلام کے محاسن پر روشنی ڈالی اور معاشرے میں پائی جانے والی غلط فہمیوں کے ازالے پر زور دیا۔
اجتماعی شادیوں کے پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے وزیر موصوف نے واضح کیا کہ اسلام ایک پرامن اور باوقار مذہب ہے، تاہم بدقسمتی سے عمومی سطح پر اس کی اصل روح کے متعلق بے بنیاد غلط فہمیاں پھیلائی گئی ہیں۔ انہوں نے اسلامی نظام میں باہمی اخوت، سماجی عدل اور مساوات کے تصور کو سراہتے ہوئے کہا کہ اسلام کا بنیادی پیغام انسانی فلاح کا ضامن ہے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے دلی خواہش کا اظہار کیا کہ اگر قواعد اجازت دیتے تو وہ مکہ معظمہ کی زیارت کے لیے ضرور جاتے۔
ریاستی وزیر کے اس مثبت اور تعمیری بیان کے فوراً بعد بی جے پی قائدین، بشمول اسمبلی میں قائدِ حزب اختلاف آر اشوک اور سینئر لیڈر سی ٹی روی نے کانگریس حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنانا شروع کر دیا۔ اپوزیشن نے الزام عائد کیا کہ وزیر کا یہ اقدام ہندو مذہب اور سناتن دھرم کی تذلیل ہے اور یہ کانگریس کی روایتی ووٹ بینک اور مسلم اقلیتوں کی منہ بھرائی کی سیاست کا تسلسل ہے۔ دائیں بازو کے حلقوں نے سوشل میڈیا اور بیانات کے ذریعے ان کے خلاف محاذ کھول دیا۔
دوسری جانب وزیر بسواراج رایا ریڈی نے اپنے مؤقف پر قائم رہتے ہوئے بی جے پی کے الزامات کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔ انہوں نے اپنے دفاع میں کہا کہ کسی ایک مذہب کی اعلیٰ اقدار اور تعلیمات کا اعتراف کرنے کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہوتا کہ دوسرے مذاہب کو کمتر دکھایا جا رہا ہو۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان کا مقصد محض اسلامی تعلیمات کی سچی تصویر پیش کرنا اور نفرت انگیز ماحول میں مذہبی ہم آہنگی کے جذبے کو فروغ دینا تھا، جسے سیاسی مقاصد کے لیے توڑ مروڑ کر پیش کیا جا رہا ہے۔
سیاسی اور سماجی تجزیہ نگاروں کے مطابق ریاست کرناٹک میں جہاں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے خلاف مسلسل پروپیگنڈا کیا جاتا رہا ہے، وہاں ایک غیر مسلم وزیر کی جانب سے کھلے عام اسلام کی قدر افزائی انتہا پسند سیاست کے بیانیے کو بے اثر کر رہی ہے۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ اقلیتوں کے حقوق اور مذہبی رواداری کو نشانہ بنانے کے بجائے آئینی اقدار کے تحت ہر مذہب کے احترام کی فضا قائم کرنا ناگزیر ہے۔




