سپریم کورٹ آف انڈیا نے اتراکھنڈ کے قصبے کوٹ دوار میں ایک مسلم دکاندار کے حق میں کھڑے ہونے والے سماجی کارکن دیپک کمار (معروف بہ ’محمد دیپک‘) کو بڑی قانونی راحت دیتے ہوئے ان کے خلاف درج ایف آئی آر پر مزید کارروائی روک دی ہے۔ جسٹس وکرم ناتھ اور جسٹس سندیپ مہتہ پر مشتمل دو رکنی بنچ نے ہائی کورٹ کے اس فیصلے پر بھی حکم امتناع جاری کر دیا ہے جس کے تحت دیپک کمار پر واقعے سے متعلق سوشل میڈیا پر کچھ بھی لکھنے یا بولنے پر مکمل پابندی عائد کی گئی تھی۔ سپریم کورٹ نے معاملے کی سماعت کرتے ہوئے مدعا علیہان اور متعلقہ فریقوں کو چار ہفتوں کے اندر جواب داخل کرنے کے لیے باضابطہ نوٹس جاری کر دیا ہے۔
یہ تنازع 26 جنوری کو یوم جمہوریہ کے موقع پر اس وقت پیدا ہوا تھا جب دائیں بازو کی تنظیموں بجرنگ دل اور وشو ہندو پریشد کے مشتعل کارکنان نے ایک مسلم دکاندار کو اس بات پر ہراساں کیا کہ اس نے اپنی دکان کے نام میں لفظ ’بابا‘ کیوں استعمال کیا۔ جب ہجوم کی جانب سے اقلیتی تاجر پر دباؤ ڈالا گیا تو دیپک کمار نے ڈٹ کر ان کی مخالفت کی اور ہجوم کے سوال پر خود کا نام ’محمد دیپک‘ بتا کر باہمی یکجہتی اور انسانیت کا ثبوت دیا۔ اس واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوئی جس کے بعد انتہا پسند عناصر نے ان کے خلاف دنگا فساد اور امن عامہ میں خلل ڈالنے جیسے الزامات کے تحت پولیس میں شکایت درج کرا دی۔
دیپک کمار کی جانب سے سپریم کورٹ میں پیش ہونے والے سینئر وکیل ابھیشیک منو سنگھوی نے عدالت کے روبرو موقف اختیار کیا کہ ان کے موکل نے محض ایک نہتے اور مظلوم شہری کا دفاع کیا تھا۔ انہوں نے عدالت کو آگاہ کیا کہ دیپک نے ہراساں کرنے والے عناصر کے خلاف باقاعدہ شکایات درج کرائی تھیں جن پر پولیس نے کوئی پیش رفت نہیں کی، جبکہ متاثرہ شخص کا ساتھ دینے والے کے خلاف ہی مقدمہ قائم کر دیا گیا۔ سنگھوی نے ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو بھی غیر منصفانہ قرار دیا جس میں ایک نیک نیت شہری کو تحفظ فراہم کرنے کے بجائے اس کی بنیادی آزادی اظہار پر قدغن لگاتے ہوئے سوشل میڈیا پر مکمل پابندی لگا دی گئی تھی۔
دستیاب اطلاعات کے مطابق واقعے کے بعد سے دیپک کمار کو شدت پسند حلقوں کی جانب سے مسلسل دھمکیوں اور ذہنی دباؤ کا سامنا رہا ہے۔ فروری کے مہینے میں بہار پولیس نے ایک ایسے شخص کو حراست میں لیا تھا جس نے دیپک کمار کو قتل کرنے والے کے لیے دو لاکھ روپے انعام کا اعلان کیا تھا۔ سپریم کورٹ کا عبوری حکم نامہ اقلیتوں کے قانونی حقوق اور ان کا ساتھ دینے والے انصاف پسند شہریوں کے تحفظ کی سمت میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
سپریم کورٹ کی جانب سے جاری کردہ نوٹس کی مدت مکمل ہونے کے بعد عدالت اس کیس کے تمام قانونی پہلوؤں اور ہائی کورٹ کی جانب سے ایف آئی آر رد نہ کرنے کے فیصلے کی باقاعدہ جانچ کرے گی۔ اس فیصلے نے واضح کر دیا ہے کہ کسی بھی شہری کو مظلوم کے دفاع پر قانونی انتقام یا بنیادی حقوق سے محرومی کا نشانہ نہیں بنایا جا سکتا۔




