نیپال تباہی : ایک مکان سے 23 لاشیں برآمد، 350 سے زائد طلباء لاپتہ

نیپال میں مہیب سیلاب اور زمین کھسکنے کے نتیجے میں پیدا ہونے والی تباہی شدت اختیار کر گئی ہے، جہاں اب تک ملبے سے 987 افراد کی لاشیں نکالی جا چکی ہیں جبکہ چار ہزار سے زائد شہری تاحال لاپتہ ہیں۔ منگل کے روز نواکوٹ ضلع کے علاقے ویترونتی میں امدادی کارروائیوں کے دوران دل دہلا دینے والا منظر اس وقت سامنے آیا جب ملبے کے نیچے دبے ایک ہی مکان سے 23 لاشیں برآمد ہوئیں۔ دوسری جانب سرحد پار بھارتی حدود میں گنڈک ندی سے بھی 23 لاشیں برآمد ہوئی ہیں جنہیں قانونی ضابطے مکمل کرنے کے بعد نیپالی حکام کے حوالے کرنے کا عمل جاری ہے۔

ریسکیو اداروں کے مطابق سیلاب کے کئی روز گزر جانے کے باوجود متاثرہ علاقوں میں لاپتہ افراد کی تلاش کا عمل انتہائی کٹھن ثابت ہو رہا ہے۔ رسووا ضلع کے اترگیا گاؤں سے تقریباً 350 طلباء کے لاپتہ ہونے کی اطلاعات ہیں، جن کے بارے میں تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ اس کے ساتھ ساتھ تریشولی تھری اے اور تریشولی تھری بی ہائیڈرو پاور پروجیکٹس میں سنگین بحران پیدا ہو چکا ہے، جہاں شدید تباہی اور راستے منقطع ہونے کے باعث بالترتیب 42 اور 118 کے قریب انجینئرز، تکنیکی حکام اور محنت کش مٹی اور پتھروں کے تودوں تلے محصور ہیں اور ان سے کسی قسم کا رابطہ قائم نہیں ہو سکا ہے۔

ہمالیائی خطے میں کلاؤڈ برسٹ اور مسلسل بارشوں کے بعد آنے والے اس سیلاب نے پسماندہ دیہی آبادیوں اور اہم بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ متعدد بستیاں ملبے کے ڈھیر میں تبدیل ہو چکی ہیں اور سڑکیں و پل بہہ جانے کے باعث مواصلاتی نظام مکمل طور پر مفلوج ہے۔ بجلی اور پینے کے صاف پانی کی سپلائی معطل ہونے سے بچ جانے والے ہزاروں خاندان کھلے آسمان تلے بے یار و مددگار پڑے ہیں، جس سے مقامی وسائل پر شدید دباؤ بڑھ چکا ہے۔

سیلاب کے ایک ہفتے بعد اب متاثرہ وادیوں میں ملبے اور کیچڑ میں دبی لاشوں کے باعث شدید تعفن پھیلنا شروع ہو گیا ہے، جس سے وسیع پیمانے پر ہیضہ، اسہال اور دیگر متعدی وبائی امراض پھوٹ پڑنے کا شدید خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ میڈیکل ریلیف ٹیموں اور امدادی اداروں کے لیے اب زندہ بچ جانے والوں کو نکالنے کے ساتھ ساتھ لاشوں کی فوری تدفین اور ادویات کی فراہمی ایک بہت بڑا چیلنج بن چکی ہے۔

نیپالی فوج، پولیس اور مقامی رضاکار ہیلی کاپٹروں اور ہیوی مشینری کے ذریعے دور افتادہ علاقوں تک پہنچنے کی مسلسل کوشش کر رہے ہیں، تاہم موسم کی خرابی اور نئے لینڈ سلائیڈنگز کے خطرات کے سبب سرچ آپریشن میں شدید رکاوٹیں پیش آ رہی ہیں۔

شیئر کریں۔