نیپال کے خطہ رسوا میں اچانک آنے والے شدید سیلاب نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی ہے، جس کے نتیجے میں اب تک 160 افراد ہلاک جبکہ ہزاروں افراد لاپتہ ہو چکے ہیں۔ نیپال کے وزیر خارجہ ششیر کھنال نے کاٹھمنڈو میں منعقدہ ایک عالمی کانفرنس کے دوران تصدیق کی ہے کہ لاپتہ افراد میں تقریباً 300 ہندوستانی شہری بھی شامل ہیں، جن میں سے بیشتر مانسروور یاترا کے لیے سفر کر رہے تھے۔
وزیر خارجہ کے مطابق سیلابی ریلوں نے محض چند گھنٹوں کے اندر کئی بستیوں کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا۔ تباہی کی شدت اس قدر زیادہ تھی کہ ہزاروں خاندان اپنے گھر بار سے محروم ہو گئے ہیں۔ متاثرہ علاقے میں کل ملا کر تقریباً 500 غیر ملکی شہریوں سے رابطہ منقطع ہو چکا ہے، جن کی حفاظت اور بازیابی کے لیے مختلف ممالک کے سفارت خانوں کے ساتھ قریبی اور مسلسل رابطہ رکھا جا رہا ہے۔ حکومت نے واضح کیا ہے کہ غیر ملکی شہریوں کی حفاظت نیپالی شہریوں کی طرح ہی اولین ترجیح ہے۔
ہندوستانی حکومت کی جانب سے فوری طور پر بھیجی گئی امدادی کارروائیوں پر نیپال نے نئی دہلی کا شکریہ ادا کیا ہے۔ نیپالی انتظامیہ اس آفت کو حالیہ برسوں کی بدترین قدرتی تباہی قرار دے رہی ہے اور فی الوقت تمام تر توجہ ریسکیو اور ہنگامی ریلیف پر مرکوز رکھی گئی ہے۔
وزیر خارجہ ششیر کھنال نے واضح کیا کہ ملک کے بیشتر سیاحتی علاقے بشمول پوکھرا اور ماؤنٹ ایورسٹ کا خطہ سیلاب کے اثرات سے محفوظ اور سیاحوں کے لیے کھلے ہیں۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ اس بحران کے دوران نیپال کے ساتھ کھڑی رہے تاکہ ملک جلد از جلد بحالی کے عمل کو مکمل کر کے اپنے پاؤں پر کھڑا ہو سکے۔




