الہ آباد ہائی کورٹ نے اتر پردیش کے شہر پریاگ راج کے ایک نجی اسکول میں زیر تعلیم مسلم طالبہ کی جانب سے اسکول یونیفارم کے ساتھ حجاب پہننے کی اجازت طلب کرنے والی درخواست کو مسترد کر دیا ہے۔ جسٹس جے جے منیر اور جسٹس اندرجیت شکلا پر مشتمل ڈویژن بنچ نے یہ فیصلہ سناتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ درخواست گزار عدالت کے روبرو ایسے مستند قانونی اور مذہبی شواہد پیش کرنے میں ناکام رہی جن سے یہ ثابت ہو سکے کہ سر ڈھانپنا یا حجاب پہننا اسلام کا لازمی مذہبی جزو ہے۔ عدالت نے تعلیمی ادارے کے نظم و ضبط کو مقدم قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ غیر امتیازی اور یکساں یونیفارم پالیسی نافذ کرنا اسکول کا قانونی اختیار ہے۔
پریاگ راج کے ٹیگور پبلک اسکول کی گیارہویں جماعت کی طالبہ سکینہ رضوی نے ہائی کورٹ میں رٹ پٹیشن دائر کرتے ہوئے مؤقف اپنایا تھا کہ وہ چھٹی جماعت سے اسی تعلیمی ادارے میں حجاب کے ساتھ تعلیم حاصل کر رہی ہے۔ درخواست گزار کا کہنا تھا کہ اسکول انتظامیہ کی جانب سے اچانک عائد کی جانے والی یہ پابندی آئین ہند کی دفعہ ۱۴، دفعہ ۱۹ (۱) (اے) اور دفعہ ۲۵ کے تحت حاصل بنیادی حقوق اور مذہبی آزادی کی صریح خلاف ورزی ہے۔ طالبہ نے استدعا کی تھی کہ اسے سابقہ برسوں کی طرح اب بھی باوقار طریقے سے حجاب پہن کر کلاسز لینے کی اجازت دی جائے۔
ہائی کورٹ کی بنچ نے اس استدلال سے اتفاق نہیں کیا اور قرار دیا کہ محض زبانی دعویٰ آئین کی دفعہ ۲۵ کے تحت تحفظ کا حقدار نہیں ہو سکتا۔ بنچ کے مطابق درخواست گزار کو عدالت میں یہ ثابت کرنا ضروری تھا کہ حجاب ایک ایسا لازمی عمل ہے جس کو ترک کرنے کی صورت میں اس کے عقیدے یا مذہبی تشخص کو ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا۔ عدالت نے فیصلے میں واضح کیا کہ اگر کوئی اسکول نیک نیتی اور مساوات کے اصولوں کے تحت یونیفارم کوڈ نافذ کرتا ہے تو یہ اقدام مذہب سے بالاتر ہو کر ایک یکساں، غیر جانبدار اور منظم تعلیمی ماحول قائم کرنے کے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔ ماضی میں رعایت دینے کی بنیاد پر آئندہ قواعد نافذ نہ کرنے کی دلیل کو بھی مسترد کر دیا گیا۔
فیصلے کے دوران ڈویژن بنچ نے کرناٹک ہائی کورٹ کے ۲۰۲۲ء کے فیصلے کو ایک اہم قانونی نظیر کے طور پر تسلیم کیا۔ عدالت نے اس امر کا بھی جائزہ لیا کہ کرناٹک حجاب معاملے پر سپریم کورٹ کا فیصلہ منقسم رہنے کی وجہ سے تاحال کوئی حتمی متفقہ فیصلہ سامنے نہیں آ سکا ہے، اس لیے موجودہ پٹیشن کا فیصلہ پیش کردہ ریکارڈ کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔ اس قانونی چارہ جوئی کے دوران اسکول انتظامیہ، سنٹرل بورڈ آف سیکنڈری ایجوکیشن (سی بی ایس ای) اور اتر پردیش حکومت کی جانب سے بھی طالبہ کے استثنا کی مخالفت کی گئی تھی۔
اس فیصلے کے بعد مسلم طالبات کے لیے تعلیمی اداروں میں مذہبی تشخص اور ڈریس کوڈ کے مابین پیدا ہونے والے تعطل پر ایک بار پھر قانونی بحث چھڑ گئی ہے۔




