بنگلورو: ریاست کرناٹک میں مجوزہ 15 ہزار اساتذہ کی بھرتی کے عمل میں اردو میڈیم اسکولوں کی خالی تدریسی آسامیوں کو شامل کرنے کے اہم مطالبے پر اقلیتی برادری نے گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔ اس سلسلے میں کونسل چیئرمین سلیم احمد کی قیادت میں ریاستی وزراء اور ارکانِ اسمبلی کے ایک اعلیٰ سطحی وفد نے وزیر تعلیم مدھو بنگارپا کے ساتھ ایک خصوصی اجلاس منعقد کیا۔ اس متحدہ اقدام سے اردو برادری اور ملازمت کے منتظر امیدواروں میں انصاف کی نئی امید پیدا ہوئی ہے۔
اس اہم اجلاس میں ریاست کے متعدد وزراء جیسے یو ٹی قادر، رضوان ارشد، ضمیر احمد خان، کے ناگیندرا کے علاوہ ارکانِ اسمبلی آصف راجو سیٹھ، یاسر پٹھان، کنیز فاطمہ، ارکانِ کونسل بلقیس بانو، عبدالجبار اور وزیراعلیٰ کے سیاسی مشیر پوننا و دیگر سینئر حکام موجود تھے۔ اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر صحت، اقلیتی بہبود و اوقاف یو ٹی قادر نے بتایا کہ طلبہ کے تناسب کے لحاظ سے اردو اساتذہ کے تقررات پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوا۔ وزیر تعلیم نے وضاحت کی کہ موجودہ جاری کردہ نوٹیفکیشن میں فوری ترمیم قانونی پیچیدگیوں کا سبب بن سکتی ہے، تاہم مستقبل کی بھرتیوں میں اس پر سنجیدگی سے غور کیا جائے گا۔ یوٹی قادر نے یقین دہانی کرائی کہ وہ اس معاملے کو وزیراعلیٰ کے سامنے اٹھائیں گے اور کابینہ کے اجلاس میں بھی بحث کروائیں گے۔
دریں اثناء، ایس ڈی پی آئی کے "چلو بنگلورو” احتجاج کے دوران مظاہرین سے یادداشت قبول کرتے ہوئے سابق وزیراعلیٰ آنجہانی دھرم سنگھ کے فرزند اور وزیر برائے چھوٹی آبپاشی اجے دھرم سنگھ نے بھی اردو اسکولوں کے ساتھ ہونے والی ناانصافی کو دور کرنے کا عزم ظاہر کیا۔ انہوں نے اپنے والد کی اردو زبان اور عثمانیہ یونیورسٹی سے وابستگی کو یاد کرتے ہوئے جذباتی اشعار بھی پیش کیے اور وزیراعلیٰ سے بات چیت کا یقین دلایا۔
تاہم اقلیتی طبقے کے نمائندوں اور تعلیمی حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ صرف اجلاسوں اور یقین دہانیوں تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ جس اردو زبان نے آزادی کی جدوجہد میں "انقلاب زندہ باد” کا نعرہ دیا، اس کے اساتذہ کو اپنے جائز حقوق کے لیے سڑکوں پر نہ آنا پڑے۔ حکومت فوری طور پر اردو میڈیم اسکولوں میں موجود تمام خالی آسامیوں کی نشاندہی کرے اور اگر ضرورت پڑے تو اردو اساتذہ کی بھرتی کے لیے علیحدہ اور مخصوص نوٹیفکیشن جاری کرے تا کہ مساوی مواقع اور اردو میڈیم طلبہ کا مستقبل محفوظ ہو سکے۔




