اتر پردیش کی ایک خصوصی ایم پی ایم ایل اے عدالت نے 2013 کے مظفرنگر فسادات سے متعلق ایک اہم معاملے میں ریاستی حکومت اور استغاثہ کی درخواست منظور کر لی ہے۔ عدالت نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے سینئر رہنماؤں اور ہندوتوا تنظیموں سے وابستہ 25 افراد کے خلاف درج تمام مقدمات واپس لینے کی باضابطہ اجازت دے دی ہے۔ ملزمین پر دفعہ 144 کی خلاف ورزی، سرکاری امور میں مداخلت اور اشتعال انگیز تقاریر کے ذریعے فرقہ وارانہ کشیدگی بھڑکانے کے سنگین الزامات عائد تھے۔
اس مقدمے میں نامزد اہم سیاسی و مذہبی شخصیات میں اتر پردیش کے ریاستی وزیر کپل دیو اگروال، سابق مرکزی وزیر سنجیو بالیان، سابق ریاستی وزیر سریش رانا، سابق بی جے پی ایم پی بھارتیندر سنگھ، سابق ایم ایل اے سنگیت سوم اور اشوک کٹاریہ شامل ہیں۔ ان کے علاوہ وشو ہندو پریشد کی لیڈر سادھوی پراچی اور ڈاسنا مندر کے نرسنگھانند کے نام بھی شامل ہیں۔ استغاثہ کی جانب سے پیش کی گئی درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ حکومت مفاد عامہ اور امن و امان کی بحالی کے لیے ان تمام کیسز کو آگے نہیں بڑھانا چاہتی، جس کے بعد عدالت نے ان کے خلاف قانونی کارروائی ختم کرنے کا حکم جاری کیا۔
تحقیقاتی رپورٹس اور ریکارڈ کے مطابق، 31 جولائی 2013 کو مظفرنگر کے ناگلا مڈور میں ایک مہاپنچایت کا اہتمام کیا گیا تھا جہاں مبینہ طور پر اشتعال انگیز خطاب کیے گئے۔ اس واقعہ کے بعد ستمبر 2013 میں مظفرنگر اور اس کے گردونواح کے اضلاع میں خوفناک فرقہ وارانہ تشدد بھڑک اٹھا تھا۔ اس تشدد کے نتیجے میں کم از کم 60 افراد کی جانیں گئیں اور ہزاروں مسلم خاندانوں کو اپنے گھر بار چھوڑ کر امدادی کیمپوں میں پناہ لینے پر مجبور ہونا پڑا۔ اس کے علاوہ مظفرنگر اور شاملی کے علاقوں سے جنسی تشدد کے سنگین واقعات بھی رپورٹ ہوئے تھے۔
قانونی اور حقوق انسانی کے حلقوں میں حکومت کے اس فیصلے پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ اس سے قبل فروری کے مہینے میں بھی اتر پردیش کی ایک عدالت نے 2013 کے مظفرنگر فسادات کے دوران 8 افراد کے قتل سے متعلق مقدمے میں عدم ثبوت کی بنیاد پر 37 افراد کو بری کر دیا تھا۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ فسادات کے اتنے سنگین معاملے میں جہاں درجنوں جانیں گئیں اور بڑے پیمانے پر نقل مکانی ہوئی، وہاں سیاسی رہنماؤں کے خلاف مقدمات کا یوں واپس لیا جانا تفتیشی نظام اور عدالتی عمل کی شفافیت پر سوالات کھڑے کرتا ہے۔
عدالت کے اس حالیہ فیصلے کے بعد مظفرنگر فسادات سے متعلق سیاسی و قانونی بحث ایک بار پھر تیز ہو گئی ہے۔ جہاں ایک طرف حکمران جماعت اسے قانونی طریقہ کار کا حصہ قرار دے رہی ہے، وہیں متاثرین اور انسانی حقوق کی تنظیمیں اسے انصاف کی فراہمی کی راہ میں رکاوٹ کے طور پر دیکھ رہی ہیں۔ اس فیصلے نے ان سوگوار خاندانوں کی امیدوں کو شدید جھٹکا پہنچایا ہے جو گزشتہ ایک دہائی سے بھی زائد عرصے سے اپنے پیاروں کے قاتلوں اور فساد کے ذمہ داروں کو سزا دلوانے کے لیے عدالتوں کے چکر کاٹ رہے ہیں۔




