دہلی کی کڑکڑڈوما عدالت نے سال 2020 کے شمال مشرقی دہلی کے پرتشدد فسادات سے متعلق ایک اہم مقدمے میں جمعرات کو بڑا فیصلہ سناتے ہوئے 13 افراد کو تمام الزامات سے باکرم بری کر دیا ہے۔ عدالت نے اپنے تفصیلی حکم میں واضح کیا کہ استغاثہ کی جانب سے پیش کیا گیا مرکزی گواہ شدید شبہات کے دائرے میں تھا اور اس کے بیانات میں سنگین تضادات پائے گئے۔ عدالتی کارروائی کے دوران استغاثہ ملزمین کے خلاف اپنے دعووں کو ثابت کرنے کے لیے کاغذی یا سائنسی ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہا، جس کے بعد عدالت نے ملزمین کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے رہائی کا حکم سنایا۔
کیس کی سماعت کرتے ہوئے عدالت نے اس بات پر شدید تشویش کا اظہار کیا کہ فسادات کے اتنے حساس معاملے میں گواہ کی شناخت اور اس کی صداقت پر قانونی سوالات موجود تھے۔ فاضل جج نے آبزرویشن دی کہ عدالتی نظام کا بنیادی اصول یہی ہے کہ کسی بھی شخص کو محض شک کی بنیاد پر سزا نہیں دی جا سکتی۔ جب تک کہ جرم کا شائبہ سے بالاتر ثبوت موجود نہ ہو، کسی کو قصوروار ٹھہرانا انصاف کے تقاضوں کے بالکل خلاف ہے۔ استغاثہ کے گواہ کی باتوں میں بار بار بدلتے بیانات نے کیس کی بنیادی روح کو کمزور کر دیا جس کا براہ راست فائدہ تمام 13 ملزمین کو ملا۔
شمال مشرقی دہلی میں فروری 2020 کے دوران بھڑکنے والے فسادات کے بعد متعدد شہریوں پر سنگین مقدمات درج کیے گئے تھے، جن میں سے اکثر معاملات اب بھی مختلف عدالتوں میں زیر سماعت ہیں۔ قانونی ماہرین کے مطابق فسادات کے بعد کی جانے والی تحقیقات پر شروع دن سے ہی سوالات اٹھائے جاتے رہے ہیں کیونکہ کئی معاملات میں بے گناہ افراد کو لمبی مدت تک جیل کی سلاخوں کے پیچھے رہنا پڑا۔ عدالتی سطح پر ان کی برائیت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ تفتیشی ایجنسیوں نے جلد بازی اور ناقص شواہد کی بنیاد پر کارروائی کی، جس سے بے گناہ شہریوں کی زندگیاں متاثر ہوئی۔
اس قانونی جنگ میں مسلم کمیونٹی کی نمائندہ تنظیموں اور بالخصوص جمعیۃ علماء ہند کا کردار انتہائی اہم رہا ہے۔ جمعیۃ علماء ہند مسلسل ان مقدمات میں قانونی امداد فراہم کر رہی ہے اور ان کے وکلاء کی ٹیم عدالتوں میں بے گناہ افراد کی ضمانت اور برائیت کے لیے مضبوط دلائل پیش کر رہی ہے۔ تنظیم کی ان انتھک کوششوں کے نتیجے میں اس سے قبل بھی متعدد بے قصور افراد جیلوں سے باہر آ چکے ہیں، جو کہ انصاف کی بالادستی اور انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے ایک بڑی پیش رفت مانگی جا رہی ہے۔
عدالت کے اس حالیہ فیصلے نے ایک بار پھر انصاف کی بحالی اور شفاف تفتیش کی ضرورت کو اجاگر کیا ہے۔ قانونی ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ فیصلہ مستقبل میں فسادات سے متعلق دیگر زیر التوا مقدمات پر بھی مثبت اثرات مرتب کرے گا اور ان تمام افراد کے لیے امید کی کرن بنے گا جو سالوں سے ناکافی ثبوتوں کی بنیاد پر عدالتی چکر کاٹنے پر مجبور ہیں۔




