پاکستان کے سابق وزیراعظم اور پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی جیل میں سلامتی کے حوالے سے پھیلنے والی تشویشناک افواہوں پر پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے سخت ردعمل دیتے ہوئے ان تمام خبروں کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔ اس سے قبل معروف پاکستانی صحافی وجاہت سعید خان نے دعویٰ کیا تھا کہ راولپنڈی میں واقع جنرل ہیڈ کوارٹرز (جی ایچ کیو) کے کچھ افسران نے عمران خان کی سلامتی سے متعلق شدید خدشات ظاہر کیے ہیں۔ تاہم، ملٹری میڈیا ونگ کی جانب سے ان خبروں کو جھوٹا اور من گھڑت قرار دیے جانے کے بعد صحافی نے اپنے ابتدائی بیان پر تفصیلی وضاحت جاری کی ہے۔
صحافی وجاہت سعید خان نے بعد میں جاری کی جانے والی ویڈیو میں اس بات کا اعادہ کیا کہ انہوں نے کبھی بھی عمران خان کی وفات کی تصدیق نہیں کی تھی، بلکہ صرف فوج کے کچھ حلقوں میں پائے جانے والے خدشات کا ذکر کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ جی ایچ کیو کے افسران نے ان کے ساتھ کسی قسم کے دستاویزی یا تصدیق شدہ شواہد شیئر نہیں کیے تھے، بلکہ وہ محض اپنے پیشہ ورانہ حلقوں میں جاری باتوں اور خدشات کی بنیاد پر بات کر رہے تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آئی ایس پی آر کی طرف سے ان کی رپورٹ کی تردید ایک خوش آئند پیش رفت ہے کیونکہ اس سے یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ سابق وزیراعظم باحیات ہیں۔
دستیاب اطلاعات اور موصولہ ذرائع کے مطابق بانی پی ٹی آئی اگست 2023 سے راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں قید ہیں اور انہیں مختلف سیاسی و قانونی مقدمات کا سامنا ہے۔ ان کی طویل قید اور وکلاء و اہلخانہ سے ملاقاتوں پر عائد کی جانے والی محدودیت کے باعث میڈیا اور سیاسی حلقوں میں ان کی صحت سے متعلق مختلف قیاس آرائیاں جنم لے رہی تھیں۔ صحافی کے مطابق بانی پی ٹی آئی کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے اہلخانہ نے جیل میں سی سی ٹی وی کے ذریعے عمران خان کو اپنے قدموں پر چلتے ہوئے دیکھا ہے، تاہم ان کی صحت کے حوالے سے آنکھوں کی نظر میں کمی اور بلڈ پریشر کی شکایات کی خبریں سامنے آئی ہیں۔
پاکستان کی سیاست میں فوج کے کردار اور اپوزیشن لیڈروں کے ساتھ تعلقات طویل عرصے سے ایک حساس موضوع رہے ہیں۔ انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں نے بھی جیل میں قید رہنماؤں کے حقوق، منصفانہ ٹرائل اور طبی سہولیات کی فراہمی پر زور دیا ہے۔ تحریک انصاف کے حامی اور قانونی ٹیم باقاعدگی سے مطالبہ کرتی رہی ہے کہ سابق وزیراعظم کو تمام قانونی، اخلاقی اور بنیادی انسانی حقوق فراہم کیے جائیں تاکہ کسی بھی غیر یقینی صورتحال کا خاتمہ ہو سکے۔
پاکستانی فوج کے باضابطہ موکل کے بعد اس غیر یقینی صورتحال اور افواہوں کے سلسلے کو بریک لگ گئی ہے۔ تاہم، تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ ملک میں سیاسی استحکام اور عوامی تشویش کو مکمل ختم کرنے کے لیے شفافیت اور باقاعدہ قانونی و طبی رسائی انتہائی ضروری ہے تاکہ مستقبل میں ایسی غیر تصدیق شدہ خبروں کو پھیلنے کا موقع نہ مل سکے۔




