کاروار (فکروخبر نیوز) مجوزہ منگلورو ہائی کورٹ بنچ کے دائرۂ اختیار میں ضلع اتر کنڑا کو شامل کرنے کی تجویز کے خلاف ضلع میں مخالفت شدت اختیار کر گئی ہے۔ اتر کنڑا ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن سمیت مختلف سماجی و عوامی تنظیموں نے ریاستی حکومت اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ضلع کو موجودہ دھارواڑ ہائی کورٹ بنچ کے دائرۂ اختیار میں ہی برقرار رکھا جائے۔
وکلاء اور عوامی نمائندوں کا کہنا ہے کہ اتر کنڑا تقریباً 10,227 مربع کلومیٹر رقبے پر پھیلا ہوا وسیع ضلع ہے، جس کے کئی علاقے ساحلی اور دشوار گزار گھاٹیوں میں واقع ہیں۔ سرسی، سداپور، یلاپور، منڈگوڈ، ہلیال اور دانڈیلی جیسے اندرونی علاقوں کے عوام کے لیے منگلورو کے مقابلے میں دھارواڑ تک رسائی زیادہ آسان، کم خرچ اور وقت کی بچت کا باعث ہے۔ ان کے مطابق ضلع کو منگلورو بنچ کے دائرۂ اختیار میں شامل کرنے سے بالخصوص غریب اور دور دراز علاقوں کے لوگوں پر اضافی سفری اخراجات اور جسمانی مشقت کا بوجھ پڑے گا۔
تاہم ضلع کے ساحلی علاقوں میں اس معاملے پر مختلف رائے بھی سامنے آئی ہے۔ بھٹکل ، ہوناور اور کاروار سے تعلق رکھنے والے بعض افراد کا کہنا ہے کہ ساحلی پٹی کے لیے منگلورو کا سفر نسبتاً آسان ہو سکتا ہے۔ اسی کے ساتھ یہ مطالبہ بھی سامنے آیا ہے کہ اگر ساحلی اضلاع کے لیے علیحدہ ہائی کورٹ بنچ قائم کرنے کی تجویز پر غور کیا جا رہا ہے تو ضلع کے مرکزی اور تاریخی شہر ہوناور کو اس کا مرکز بنایا جائے۔ حامیوں کا کہنا ہے کہ 1857 میں کینرا ضلع کی تقسیم کے وقت ہوناور ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر رہا ہے۔
اتر کنڑا ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر ناگراج نائک نے کہا کہ ضلع کو منگلورو بنچ کے تحت لانے سے انتظامی اور لسانی مسائل بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس سلسلے میں کرناٹک ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اور ریاستی حکومت کو یادداشت پیش کی جا چکی ہے۔
مجوزہ تبدیلی کے خلاف اور اتر کنڑا کو دھارواڑ ہائی کورٹ بنچ کے تحت برقرار رکھنے کے مطالبے پر 13 اگست کو کاروار کے مترا سماج سے ڈپٹی کمشنر دفتر تک احتجاجی پیدل مارچ نکالا جائے گا۔ بار ایسوسی ایشن کے مطابق مارچ میں اتر کنڑا کے مختلف تعلقہ جات کے وکلاء کے علاوہ دھارواڑ بنچ کے دائرۂ اختیار میں آنے والے دیگر اضلاع کی بار ایسوسی ایشنز کے نمائندوں اور مختلف عوامی و سماجی تنظیموں کے کارکنان بھی شرکت کریں گے۔




