گجرات ہائی کورٹ نے سورت کے ناصر نگر میں کی گئی مبینہ طور پر غیر قانونی انہدامی کارروائی اور متاثرہ باشندوں کی بحالی سے متعلق کیس میں انتظامیہ کے خلاف انتہائی سخت موقف اختیار کیا ہے۔ پیر کے روز عدالت عالیہ نے سورت میونسپل کارپوریشن اور ریاستی حکومت سے سخت سوالات کرتے ہوئے پوچھا کہ جن شہریوں کے مکانات بغیر کسی قانونی اختیار کے منہدم کیے گئے، ان سے بحالی کے لیے اقتصادی طور پر کمزور طبقے (ای ڈبلیو ایس) کی ہاؤسنگ اسکیم کے تحت رقم کیوں وصول کی جا رہی ہے؟ عدالت نے یہ اہم سوال بھی اٹھایا کہ جب اس پوری کارروائی کی اعلیٰ سطحی انکوائری جاری ہے تو سورت کے میونسپل کمشنر اور ملوث اعلیٰ پولیس افسران کو ان کے عہدوں پر اب تک کس بنیاد پر برقرار رہنے دیا گیا ہے۔
سماعت کے دوران جسٹس نکھل ایس کریل نے واضح کیا کہ جب تک الزامات کا سامنا کرنے والے اعلیٰ افسران اپنے عہدوں پر فائز رہیں گے، جاری انکوائری کے غیر جانبدارانہ اور شفاف ہونے کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ اعلیٰ حکام کی موجودگی میں ماتحت جونیئر افسران اور عملہ آزادانہ طور پر اپنے بیانات ریکارڈ نہیں کروا سکے گا۔ گجرات حکومت کی جانب سے ۱۸ جولائی کو تشکیل دی گئی تحقیقاتی کمیٹی کو یہ جانچنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے کہ آیا یہ انہدامی کارروائی گجرات میونسپل کارپوریشن ایکٹ کے تحت مقررہ قانونی طریقہ کار کے مطابق ہوئی تھی یا نہیں۔ اس کے علاوہ کمیٹی کو میونسپل کمشنر، پولیس افسران اور ملوث نجی افراد کے کردار کی تفتیش بھی کرنی ہے۔ عدالت نے زور دے کر کہا کہ قانونی اور جمہوری نظام کا بنیادی تقاضا یہ ہے کہ نہ صرف انصاف کیا جائے بلکہ انصاف ہوتا ہوا نظر بھی آنا چاہیے۔
اس انسانی و سماجی بحران کا احاطہ کرتے ہوئے ہائی کورٹ نے انتظامیہ کی اس تجویز کو یکسر مسترد کر دیا جس میں متاثرین کی بحالی کے اخراجات غیر سرکاری تنظیموں (این جی اوز) یا سول سوسائٹی پر ڈالنے کی کوشش کی گئی تھی۔ عدالت نے صریح الفاظ میں فیصلہ دیا کہ جن ۱۰۰ سے زائد خاندانوں کے سر سے چھت چھینی گئی ہے، ان کی مکمل بحالی اور متبادل رہائش کی فراہمی سورت میونسپل کارپوریشن اور ریاستی حکومت کی بنیادی آئینی ذمہ داری ہے۔ حکومت یا کارپوریشن اپنی انتظامی غلطیوں اور غیر قانونی اقدامات کا بوجھ عام شہریوں یا فلاحی تنظیموں پر منتقل نہیں کر سکتی، بلکہ متاثرین کو نئے مکانات تعمیر کر کے دینا یا متبادل رہائش فراہم کرنا حکام کا فرض ہے۔
یہ مقدمہ ۳۰ مئی کو سورت کے ناصر نگر علاقے میں پیش آنے والے افسوس ناک واقعے سے متعلق ہے، جہاں ایک نجی ڈیولپر کی درخواست پر کی جانے والی حد بندی کے نام پر قانونی نوٹس اور طے شدہ طریقہ کار پر عمل کیے بغیر درجنوں مکانات کو بلڈوزر کے ذریعے زمین بوس کر دیا گیا تھا۔ اس اچانک کارروائی کے نتیجے میں ۱۰۰ سے زائد غریب و اقلیتی خاندان بے گھر ہو کر کھلے آسمان تلے آنے پر مجبور ہو گئے تھے۔ اس سے قبل جولائی میں سورت میونسپل کمشنر کے اپنے حلف نامے کا حوالہ دیتے ہوئے گجرات ہائی کورٹ نے اس انہدامی اقدام کو ’مکمل طور پر غیر قانونی‘ قرار دیا تھا۔
عدالت عالیہ نے اس دعوے کو بھی سختی سے خارج کر دیا کہ انہدامی کارروائی کے بعد کسی فرضی یا بعد میں تراشی گئی وجہ کی بنیاد پر اس غیر قانونی عمل کو جائز ٹھہرایا جا سکتا ہے۔ بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ، غریب طبقات کی داد رسی اور بلڈوزر پالیسی کے خلاف گجرات ہائی کورٹ کا یہ موقف عدالتی تاریخ میں ایک اہم نذیر ثابت ہوگا۔ اب تمام نظریں حکومت کے آئندہ جواب اور دو ماہ میں آنے والی تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ پر ٹکی ہوئی ہیں۔




