بریلی میں کانوڑ یاترا روٹ پر نان ویج فروخت کرنے کے الزام میں چار افراد حراست میں، دکان پر چلا بلڈوزر

اتر پردیش کے ضلع بریلی میں کانوڑ یاترا کے مقررہ راستے پر مبینہ طور پر نان ویجیٹیبل (گوشت پر مبنی) غذا فروخت کرنے کے الزام میں پولیس نے دو مختلف دکانوں سے چار افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔ اس کے علاوہ انتظامیہ نے کارروائی کرتے ہوئے ایک دکان کے بیرونی حصے اور کاؤنٹر کو بلڈوزر کے ذریعے مسمار کر دیا ہے۔ یہ قدم ساون کے مقدس مہینے کے دوران مقامی انتظامیہ کی جانب سے کانوڑ یاترا کے راستوں پر گوشت کی فروخت پر لگائی گئی پابندی کے بعد سامنے آیا ہے۔

دستیاب رپورٹس کے مطابق، واقعہ بریلی کے باہیڑی تھانہ علاقے میں پیش آیا جہاں ہفتے کی شام پولیس اور انتظامیہ کو اطلاع ملی تھی کہ یاترا روٹ پر واقع ایک دکان میں چکن بریانی فروخت کی جا رہی ہے۔ اطلاع ملتے ہی پولیس کی ٹیم نے موقع پر چھاپہ مار کر دکان دار سلمان اور رئیس کو حراست میں لے لیا۔ باہیڑی کے سرکل آفیسر ارون کمار سنگھ کے مطابق، دکان کے سامنے بنے ٹن شیڈ اور کاؤنٹر کو بلڈوزر کے ذریعے منہدم کر دیا گیا۔ اس کے علاوہ قریبی ایک اور بیکری کے پاس واقع دکان پر بھی چھاپہ مار کر مزید دو افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔

مقامی انتظامیہ اور پولیس حکام کا کہنا ہے کہ مقدس مہینے ساون کے آغاز سے قبل ہی یاترا کے راستوں پر واقع تمام تاجروں اور ہوٹل مالکان کو ہدایت جاری کی گئی تھی کہ وہ اس راستے پر نان ویج اشیاء فروخت نہ کریں۔ پولیس افسران نے تنبیہ کی ہے کہ مذہبی جلوسوں اور یاترا کے راستوں پر امن و امان برقرار رکھنے کے لیے ان احکامات کی پاسداری ضروری ہے اور آئندہ خلاف ورزی پر مزید سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔

دوسری جانب، مقامی سطح پر فوری طور پر دکان مسمار کرنے کی اس کارروائی اور پولیس ایکشن پر سوالات بھی اٹھائے جا رہے ہیں۔ حقوق انسانی کے متحرک کارکنوں اور مبصرین کا ماننا ہے کہ محض انتظامی ہدایات کی مبینہ خلاف ورزی پر بلڈوزر کے ذریعے دکانوں کو نقصان پہنچانا اور روزگار کے ذرائع کو مسمار کرنا قانونی طریقہ کار کی پامالی ہے۔ ایسے اقدامات سے اقلیتی تاجروں اور چھوٹے کاروبار سے وابستہ افراد میں عدم تحفظ کا احساس پیدا ہوتا ہے۔

واضح رہے کہ ہر سال ساون کے مہینے میں ہزاروں کانوڑ یاتری گنگا ندی سے مقدس جل لینے کے لیے سفر کرتے ہیں۔ انتظامیہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ قانون کے مطابق امن و امان قائم رکھے، تاہم بلڈوزر کارروائی کے بجائے قانونی اور آئینی دائرے میں رہتے ہوئے تادیبی اقدامات کیے جانے چاہئیں تاکہ کسی بھی شہری کے بنیادی حقوق مجروح نہ ہوں۔

شیئر کریں۔