آسام میں حتمی قومی رجسٹر برائے شہریت (این آر سی) کی اشاعت کو ۶ سال کا طویل عرصہ بیت جانے کے باوجود ۳ کروڑ سے زائد جائز شہریوں کو تاحال قومی شناختی کارڈ جاری نہ کیے جانے کا معاملہ اب ملک کی اعلیٰ ترین عدالت میں زیر بحث ہے۔ سپریم کورٹ میں جمعیۃ علماء ہند اور ‘آمسو’ کی جانب سے دائر کردہ مشترکہ آئینی درخواست پر سماعت کے دوران مرکزی اور آسام حکومت کی جانب سے جواب جمع نہ کرائے جانے پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ اس اہم معاملے پر اعلیٰ ترین عدالت نے حکومت کو اپنا اعتراض اور جواب داخل کرنے کے لیے مزید ۶ ہفتوں کی مہلت دی ہے۔
سپریم کورٹ کی دو رکنی بنچ، جس میں جسٹس ایس ایم نرسمہا اور جسٹس آلوک آرادھے شامل ہیں، کے سامنے معاملے کی سماعت کے دوران جمعیۃ علماء ہند کی جانب سے سینئر کونسل کپل سبل نے دلائل پیش کیے۔ کپل سبل نے عدالت کو بتایا کہ عدالتی نوٹس کے باوجود مرکزی اور ریاستی حکومتوں نے اپنا جواب داخل کرنے میں لیت و لعل سے کام لیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ رجسٹرار جنرل آف انڈیا کا جواب ملنے کے بعد جمعیۃ جلد ہی اپنا جوائنڈر داخل کرے گی۔ انہوں نے عدالت کی توجہ اس بنیادی نکتہ پر مرکوز کرائی کہ حتمی این آر سی کا عمل مکمل ہونے کے باوجود شہریوں کو ان کے آئینی و قانونی حق یعنی نیشنل آئی ڈی کارڈ سے محروم رکھا گیا ہے۔
سپریم کورٹ کی اس کارروائی اور حکومت کے رویے پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی نے شدید برہمی کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ نوٹس کے باوجود حکومتوں کا جواب داخل نہ کرنا اور ۶ سال بعد بھی قانونی مراحل کو زیر التوا رکھنا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ شہریت کے اس انتہائی حساس اور بنیادی انسانی مسئلے کو سیاسی مفادات اور انتخابی فائدے کے لیے دانستہ طور پر زندہ رکھا جا رہا ہے۔ مولانا مدنی نے کہا کہ آسام میں ایک عرصے سے فرقہ پرست عناصر مسلمانوں کو ‘غیر ملکی’ قرار دے کر ان کی حب الوطنی اور قانونی حیثیت کو مشکوک بنانے کی کوشش کرتے رہے ہیں، جس سے سماجی ہم آہنگی کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
مولانا ارشد مدنی نے آسام کی موجودہ بی جے پی حکومت کی پالیسیوں پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ریاست میں تفریق اور مسلم مخالف ایجنڈے پر عمل ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کبھی پنچایت سرٹیفکیٹ کی منسوخی، کبھی مدارس کی بندش، اور کبھی ڈی ووٹر اور فارنرز ٹریبونل کے نام پر اقلیتوں کو ذہنی اور قانونی اذیت میں مبتلا کیا گیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جمعیۃ علماء ہند آسام کے مظلوم شہریوں کے حقوق کی بحالی اور شہریت کے تحفظ کے لیے گزشت ۱۴ سالوں سے قانونی جنگ لڑ رہی ہے اور عدالت عظمیٰ کے ذریعے تمام متاثرین کو انصاف دلانے تک یہ جدوجہد جاری رہے گی۔
اس مقدمے کے پیش نظر آسام کے لاکھوں باشندوں کی نظریں اب سپریم کورٹ کی اگلی سماعت پر ٹکی ہوئی ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں اور قانونی ماہرین کا ماننا ہے کہ این آر سی میں شامل شہریوں کو فوری طور پر تمام قانونی شناختی دستاویزات فراہم کی جانی چاہئیں تاکہ ان کا جمہوری اور شہری استحصال روکا جا سکے اور وہ بلا خوف و خطر اپنے ملک میں تمام بنیادی شہری حقوق سے استفادہ کر سکیں۔




