(بروفات سید نورالدین ابن سید سلمان سید حسینا)
از: جاوید ائیکری
صبح چہچہاتے پرندے اپنے رزق کی تلاش میں نکلنے کی تیاری میں تھے ، مؤذن حی علی الصلاة، حى على الفلاح کی پکار لگارہا تھا، عین اسی وقت آلارم بج گیا، شیطان رجیم اور تھوڑی دیر سونے کا دلاسہ دینے میں تھا ، آعوذ باللہ سے اسے دور بھگاکر فون پر نظر کیا ڈالی، الگ نمبرات سے 7 مس کال تھے، کاش یہ خواب ہوتا کہ دیر رات اہلیہ کے گھر سے فون آیا ہو، یا کوئی مجھے یہ باور کرائے غلطی سے نمبر لگ گیا تھا، ناگہانی بات کا اندازہ تھا، رہی سہی ہمت جٹا کر واپس فون لگایا جس کا ڈر تھا وہی صادق آگیا ، لڑکھڑاتی زبان سے إنا لله وإنا إليه راجعون کا علاوہ کوئی چارہ نہ تھا۔ حاجت اور وضو سے فارغ ہوکر اک نظر 7 ماہ کے اس ننھے بچے پر کیا پڑی ، پیروں تلے زمین کھسک سی گئی، اک پھول سا بچہ گہری نیند سویا ہو کئی روز کی بیماری کی تھکن اس کے چہرے سے اتر سی گئی ہو ، کھلتا پھول جو خاموش سا مرجھا گیا ہو۔
رہ رہ کر راقم السطور کو غسل کے بعد کا تڑپتا منظر یاد آتا ہے، جب بچہ آخری سفر کیلئے تیار تھا، یوں محسوس ہورہا تھا کہ وہ اپنی مسکراہٹ سے گھر والوں کے چہروں پر مسکراہٹ بکھیر رہا ہو، لیکن یہاں منظر کچھ اور ہی تھا ، ماں کے نہ تھمنے والے آنسو، گویا ماں بچے کو تھوڑی دیر رکنے کی گزارش کررہی ہو، ممتا کی محبت، کلیجہ کا درد، نو ماہ کی تکلیف ، راتوں کی نیندوں کا واسطہ دے کر واپس لوٹنے کی آس لگا رہی ہو اور بدلہ میں بچہ ماں کے آنسو پوچھ کر، صبر کی تلقین کرتے انکے لئے ذخیرہ آخرت بننے کا یقین دے رہا ہو۔ اسی وعدہ پر ماں اور بیٹا جدا ہوتے ہیں، پھر باپ اپنے کلیجہ کو تھامے بعد نماز جنازہ اپنے ہلکے قدموں سے قبرستان کی طرف گامزن ، زبان حال سے اپنے رب سے گویا ، کہ اللہ یہ تیری امانت ہے، میرے دل کے سب سے قریب ہے، تو نے جب دیا تیرا شکر فرض تھا، آج "منها خلقناکم، وفيها نعيدكم، ومنها نخرجكم مرة اخرى” کے فرمان پر راضی ہوکر تیرے حوالے کر رہا ہوں، ہمارے صبر کی لاج رکھنا، اسے جنت کا پھول ، نعم البدل بنانا اور ہمارے لئے جنت کا راستہ آسان کرنا۔
یہی اس دنیا کا رواج ہے، خوشیاں دیر تک قائم نہیں رہتی، کبھی بندہ کو شدت سے محبوب چیز چھین کر آزمایا جاتا ہے، دنیا اک سراب ہے، اسے دائمی سمجھے والا بے وقوف، موت کے بعد والی حقیقت کی تیاری کرنے والا عقلمند۔ جس نے وما الحياة الدنيا إلا متاع الغرور کو سمجھا کامیاب، سراب کو حقیقت سمجھنے والا خسارہ میں، انہی تلخ حقیقت کے ساتھ ہمارا جینا ہے، اوراس کا یہی پیغام ہے کہ اسی طرح کے اچانک آنے والے آزمائش پر صبر کرنے والے جنت کی بشارت کے حقدار ہیں۔




