بھٹکل (فکرو خبر نیوز) ابنائے جامعہ ، جامعہ اسلامیہ بھٹکل کا سالانہ اجلاس آج بعد عشاء امیر ہال نوائط کالونی میں منعقد ہوا جس میں شہر سمیت اطراف و اکناف کے ابناء نے شرکت کی۔
ابناء کے جنرل سکریٹری مولانا عبد الاحد فکردے ندوی نے سال 1447 ہجری و 2025 عیسوی کی تفصیلی رپورٹ پیش کی جس میں ابناء تمام شعبہ جات کا مختصر تعارف پیش کرتے ہوئے اس کی خدمات پر بھی روشنی ڈالی ، انہوں نے ابناء کے ان کاموں میں اپنا تعاون کرنے والے احباب انہوں نے خصوصی شکریہ ادا کیا اور اس مشن کو مزید استحکام بخشنے کے لیے ادارے کی تعمیر وترقی میں حصہ لینے پر بھی زور دیا۔
اپنے خطاب میں امام و خطیب جامع مسجد بھٹکل اور نائب مہتمم جامعہ اسلامیہ بھٹکل مولانا عبدالعلیم خطیب ندوی نے علماء اور فضلاء کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں علمِ دین کی خدمت کے لیے منتخب کیا ہے، اس لیے انہیں اس عظیم نعمت پر شکر ادا کرتے ہوئے ہمیشہ کتابوں، مطالعہ اور علم سے اپنا تعلق مضبوط رکھنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ایک عالمِ دین کی اصل پہچان اس کے علم، عمل، اخلاق اور آخرت کی فکر سے ہوتی ہے، اس لیے دنیا کی چمک دمک سے مرعوب ہونے کے بجائے دین کی سربلندی اور رضائے الٰہی کو اپنا مقصد بنانا چاہیے۔ مولانا نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ بعض فضلاء دینی ماحول، علماء اور اساتذہ سے دوری، دنیاوی مصروفیات اور نامناسب صحبت کے باعث عملی اور اخلاقی کمزوریوں کا شکار ہو جاتے ہیں، یہاں تک کہ ان کے بارے میں فرائض کی ادائیگی کے سلسلہ میں ہونے والی شکایات سامنے آتی ہیں، جو ایک عالمِ دین کی شان کے خلاف ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ علماء کو مسلسل اپنا محاسبہ کرتے رہنا چاہیے، اپنے اساتذہ، مادرِ علمی اور اکابر سے مضبوط تعلق قائم رکھنا چاہیے، کیونکہ یہی تعلق ان کی علمی و عملی حفاظت اور صحیح رہنمائی کا ذریعہ بنتا ہے۔ مولانا نے کہا کہ علماء معاشرے کے لیے آئینہ ہوتے ہیں، ان کے کردار، اخلاق اور عمل کا براہِ راست اثر عوام پر پڑتا ہے، اس لیے انہیں دعوت، اصلاح، تعلیم اور عوام سے مضبوط تعلق کو اپنی بنیادی ذمہ داری سمجھتے ہوئے ہر حال میں اپنی دینی ذمہ داریاں ادا کرنی چاہئیں۔
مہتمم جامعہ اسلامیہ بھٹکل مولانا مقبول احمد ندوی نے اپنے خطاب میں کہا کہ اس طرح کی نشستوں کا مقصد محض اجتماع نہیں بلکہ ایک دوسرے سے ملاقات، باہمی تعلقات کے استحکام اور اجتماعی اصلاح کا موقع فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو افراد کسی بھی حیثیت سے دینی، فکری، اخلاقی یا دعوتی مشن کو آگے بڑھانے میں تعاون کرتے ہیں، وہ سب اس کارِ خیر میں برابر کے شریک ہیں اور اللہ تعالیٰ سے امید ہے کہ ان تمام کوششوں کا اجر سب کو عطا فرمائے گا۔ انہوں نے ابناء کی موجودہ ٹیم اور ذمہ داران کو مبارکباد دیتے ہوئے ان کی دینی خدمات کو سراہا اور کہا کہ اخلاص اور فکر کے ساتھ جاری یہ کوششیں قابلِ قدر ہیں۔ مولانا نے زور دیا کہ علماء کو وقتاً فوقتاً احتسابی نشستیں منعقد کرنی چاہییں، جہاں ہر شخص کھلے دل سے اپنی کمزوریوں کا اعتراف کرے اور اپنی اصلاح کی فکر کرے۔ آخر میں انہوں نے تمام فضلاء سے اپیل کی کہ وہ اپنی مادرِ علمی جامعہ اسلامیہ بھٹکل سے اپنا تعلق ہمیشہ مضبوط رکھیں، وقتاً فوقتاً جامعہ آتے رہیں اور اسے اپنا گھر سمجھ کر اس سے وابستگی کو برقرار رکھیں۔
آخر میں ابناء سے ناظم جامعہ اسلامیہ بھٹکل مولانا محمد طلحہ رکن الدین ندوی اور استاد جامعہ اسلامیہ بھٹکل مولانا عبدالرب ندوی نے بھی خطاب کیا۔
صدارتی کلمات میں صدر ابناء جامعہ جامعہ اسلامیہ بھٹکل مولانا رحمت اللہ رکن الدین ندوی نے اپنے ادارے سے جڑے رہنے اور اس کاموں میں حصہ لینے کی ترغیب دی۔
تلاوتِ کلام پاک سے شروع ہونے والا یہ پروگرام دعائیہ کلمات پر اپنے اختتام کو پہنچا۔




