ہندوستان سمیت دنیا بھر میں وہاٹس ایپ کی خدمات متاثر ، ہزاروں صارفین کے اکاؤنٹس اچانک غیر فعال

دنیا کے مقبول ترین میسجنگ پلیٹ فارم وہاٹس ایپ کے ہزاروں صارفین کو اس وقت شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا جب ہندوستان سمیت متعدد ممالک میں ان کے اکاؤنٹس اچانک ۲۴؍ گھنٹے کے لیے "زیرِ جائزہ” (Under Review) قرار دے دیے گئے۔ اس غیر متوقع اقدام کے باعث متاثرہ صارفین پیغام رسانی، فائل شیئرنگ اور دیگر اہم سہولیات سے مکمل طور پر محروم ہو گئے اور ان کے کاروباری و ذاتی رابطے بری طرح متاثر ہوئے۔

ذرائع کے مطابق صارفین کو اس مسئلے کا سامنا پیر کی رات تقریباً ۸؍ بجے کے قریب ہوا، جب اکاؤنٹس کھولتے ہی اسکرین پر ایک نوٹیفکیشن ظاہر ہونے لگا۔ اس نوٹیفکیشن میں لکھا تھا کہ اکاؤنٹ کی سرگرمی اور ڈیوائس کی معلومات کا جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ سروس کی شرائط کی خلاف ورزی تو نہیں ہوئی۔ پیغام میں یہ بھی واضح کیا گیا تھا کہ جائزے کا عمل عموماً ۲۴؍ گھنٹوں میں مکمل کر لیا جائے گا اور نتیجے سے آگاہ کر دیا جائے گا۔ اس نوٹیفکیشن کے بعد صارفین میں تشویش کی لہر دوڑ گئی اور لوگوں نے سوشل میڈیا پر اس کے اسکرین شاٹس شیئر کرنا شروع کر دیے اور بلاوجہ اکاؤنٹ معطل کیے جانے پر سخت ناراضگی ظاہر کی۔

اس بگڑتی ہوئی صورتحال اور صارفین کے احتجاج کے بعد وہاٹس ایپ کی مالک کمپنی ‘میٹا’ کے ترجمان نے اپنا موقف جاری کیا۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ کمپنی اپنے پلیٹ فارم کو محفوظ بنانے اور اس کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے مسلسل الگورتھم اور نگرانی کا نظام استعمال کرتی ہے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ پلیٹ فارم کو محفوظ رکھنے کے عمل میں بعض اوقات خودکار نظام کی جانب سے غلطیاں ہو جاتی ہیں، اور اگر ایسا ہوتا ہے تو کمپنی ان غلطیوں کو جلد از جلد درست کر کے متاثرہ صارفین کی رسائی بحال کرنے کی کوشش کرتی ہے۔

سائبر سیکیورٹی اور ڈیجیٹل ماہرین کے مطابق تکنیکی نظام اور بوٹس (Bots) میں ہونے والی گڑبڑ یا پالیسی فلٹرز میں اچانک تبدیلی اس کی بنیادی وجہ ہو سکتی ہے۔ جب الگورتھم میں کوئی غلطی آتی ہے تو وہ عام اور قوانین کی پاسداری کرنے والے اکاؤنٹس کو بھی غلطی سے اسپام یا مشکوک سرگرمی کے زمرے میں ڈال دیتا ہے۔ یہ پہلا موقع نہیں ہے جب اس طرح کا بڑے پیمانے پر تکنیکی خلل دیکھا گیا ہو، اس سے قبل بھی خودکار سیکیورٹی اپڈیٹس کے دوران اس طرح کے مسائل سامنے آتے رہے ہیں۔

اس معطلی کے باعث ہزاروں چھوٹے کاروباری اداروں، صحافیوں اور عام شہریوں کو شدید دشواری کا سامنا کرنا پڑا ہے جن کا روزمرہ کا کام مکمل طور پر وہاٹس ایپ پر منحصر ہے۔ قانونی اور سائبر ماہرین کا ماننا ہے کہ اتنے بڑے پلیٹ فارمز کو صارفین کی معطلی سے قبل شفاف طریقہ کار اور پیشگی اطلاع کا نظام قائم کرنا چاہیے تاکہ کسی کی نجی یا کاروباری زندگی اچانک معطل نہ ہو۔

متاثرہ صارفین کی جانب سے اپیلیں جمع کرائے جانے کے بعد اب دھیرے دھیرے اکاؤنٹس کی بحالی کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔ توقع ہے کہ کمپنی اپنے سیکیورٹی سسٹم کی خرابیوں کو جلد دور کر لے گی تاکہ مستقبل میں عام صارفین کو اس طرح کے ناگہانی مسائل کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

شیئر کریں۔