جموں و کشمیر کے جنوبی ضلع کولگام میں دو غیر مقامی مزدوروں کے ناگہانی قتل پر ریاست کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے شدید برہمی اور گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔ سرینگر میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے اس واقعے کو انتہائی افسوسناک اور انسانیت سوز قرار دیا۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ دنیا کا کوئی بھی مذہب بے گناہ انسانوں کا خون بہانے کی ہرگز اجازت نہیں دیتا اور اس درندانہ عمل کی جتنی بھی مذمت کی جائے وہ کم ہے۔
یہ دردناک واقعہ ۳۱ جولائی کی شام کو اس وقت پیش آیا جب کولگام کے ایک اینٹ کے بھٹے پر کام کرنے والے ریاست چھتیس گڑھ کے دو غریب مزدوروں کو نامعلوم مسلح افراد نے نشانہ بنایا۔ شدید فائرنگ کے نتیجے میں دونوں مزدور موقع پر ہی دم توڑ گئے۔ اس بزدلانہ اور سفاکانہ حملے کے بعد وادی بھر کی سیاسی، سماجی اور مذہبی قیادت نے سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ٹارگٹ کلنگ کے اس سلسلے کو انسانیت پر حملہ قرار دیا ہے۔
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے خطے میں امن و امان کی مجموعی صورتحال اور شہریوں کی حفاظت کے حوالے سے سیکیورٹی اداروں کی کارکردگی پر بھی بات کی۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ سیکیورٹی گرڈ اپنی حکمت عملی کو مزید مضبوط اور فعال بنائے گا تاکہ مستقبل میں اس نوعیت کے خونی واقعات کی روک تھام کی جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ سیکیورٹی برقرار رکھنے کے ذمہ دار اداروں کو اس بات کو ہر قیمت پر یقینی بنانا ہوگا کہ محنت کشوں اور عام شہریوں پر ایسے حملے دوبارہ نہ ہوں۔
حکومت کی جانب سے متاثرہ خاندانوں کی ممکنہ مدد کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے چیف منسٹر ریلیف فنڈ سے مقتولین کے وارثین کے لیے فی کس دس لاکھ روپے اور ڈسٹرکٹ فنڈ سے چھ چھ لاکھ روپے کی مالی امداد فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔ ریاست کے انتظامی و سیکیورٹی حکام نے علاقے کا محاصرہ کر کے ملوث عناصر کی تلاش شروع کر دی ہے تا کہ اس غیر انسانی عمل کے ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔
انسانی حقوق کی پامالی اور معصوم شہریوں پر اس طرح کے مسلسل حملے خطے کے امن و استحکام اور عام زندگی پر انتہائی منفی اثرات مرتب کرتے ہیں۔ عوامی حلقوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے توقع کی جا رہی ہے کہ وہ تمام شہریوں بلا تفریق مذہب و علاقہ کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے مربوط اور پائیدار اقدامات اٹھائیں گے۔




