ایک طرف سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ، دوسری طرف سوکھا, ، تمل ناڈو میں باران رحمت کے لئے نماز استسقاء

ہندوستان کے مختلف خطوں میں اس وقت ایک غیر معمولی اقلیمی اور موسمی تضاد دیکھنے کو مل رہا ہے۔ ایک طرف جہاں ملک کی بیشتر ریاستوں میں مون سون کی شدید اور موسلا دھار بارشوں نے معمولاتِ زندگی درہم برہم کر دیے ہیں، وہیں جنوبی ریاست تمل ناڈو شدید گرمی، خشکی اور پانی کے بحران کا سامنا کر رہی ہے۔ اس سنگین صورتحال کے پیشِ نظر تمل ناڈو کے ضلع تروچیراپلی کے علاقے تھینور میں مسلم برادری کی جانب سے بارش اور رحمت الٰہی کے حصول کے لیے باجماعت ‘نمازِ استسقاء’ کا اہتمام کیا گیا، جس میں دو ہزار سے زائد عقیدت مندوں نے شرکت کر کے بارانِ رحمت کے لیے خصوصی دعائیں کیں۔ تمل ناڈو کے کئی اضلاع میں درجہ حرارت 37.5 ڈگری سیلسیس سے تجاویز کر چکا ہے اور عوام کو پینے کے پانی کی شدید قلت درپیش ہے۔

دوسری جانب ملک کے دیگر حصوں میں برسات اور اس سے جڑے حادثات نے بھاری جانی و مالی نقصان پہنچایا ہے۔ بہار کے ضلع بانکا میں مختلف مقامات پر آسمانی بجلی گرنے کے باعث 6 افراد کی جان چلی گئی، جس کے بعد محکمہ موسمیات نے ریاست کے تمام اضلاع کے لیے الرٹ جاری کیا ہے۔ کرناٹک کے ضلع شیواموگا میں اتوار کی صبح پہاڑی کے قریب واقع ایک مکان پر مٹی کا تودہ گرنے سے ایک ہی خاندان کے 3 افراد، جن میں تین سالہ معصوم بچہ بھی شامل ہے، جان بحق ہو گئے۔ کیرالہ کے اڈوکی اور کوٹایم اضلاع میں لینڈ سلائیڈنگ اور سیلاب سے اب تک 8 افراد کی موت ہو چکی ہے جبکہ 8 دیگر لاپتہ ہیں، اور حکومت نے 5,700 سے زائد متاثرین کے لیے 209 ریلیف کیمپ قائم کیے ہیں۔

گجرات اور راجستھان کی صورتحال بھی انتہائی تشویشناک بنی ہوئی ہے۔ راجستھان کے 24 اضلاع میں مسلسل بارش سے اجمیر سمیت کئی شہروں کی گلیوں میں پانی بھر گیا ہے۔ گجرات کے ضلع سورت میں اگرچہ بارش کا سلسلہ فی الحال تھما ہے، لیکن نوساری، بھڑوچ اور ڈانگ میں ندی نالے طغیانی پر ہیں۔ سورت میں دریائے کِم کی سطحِ آب اتنی بلند ہو گئی ہے کہ ساحلی علاقے میں واقع ‘مکتی دھام’ شمشان گھاٹ پانی میں ڈوب گیا ہے، جس کی وجہ سے شہریوں کو آخری رسوم کی ادائیگی کے لیے دور دراز علاقوں کا سفر کرنا پڑ رہا ہے۔

شمالی اور پہاڑی ریاستوں میں بھی بارش کا قہر بدستور جاری ہے۔ ہماچل پردیش میں 7 اگست تک شدید بارش کے پیش نظر ‘یلو الرٹ’ جاری کیا گیا ہے اور ریاست میں سو سے زائد سڑکیں لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے مسدود ہو چکی ہیں۔ جموں و کشمیر کے بانڈی پورہ، شوپیاں اور اننت ناگ اضلاع میں بھی موسلا دھار بارش اور پہاڑوں سے ملبہ گرنے کے باعث سیلابی صورتحال ہے، جس سے متعدد رہائشی مکانات اور بنیادی انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچا ہے۔

مجموعی طور پر ملک کا ایک بڑا حصہ سیلاب، ندیوں کی طغیانی اور لینڈ سلائیڈنگ جیسے قدرتی آفات سے نبرد آزما ہے، جبکہ تمل ناڈو جیسے علاقوں میں عوام بارانِ رحمت کے لیے بارگاہِ الٰہی میں دستِ دعا دراز کیے ہوئے ہیں۔ مختلف ریاستوں کی انتظامیہ اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ کی ٹیمیں متاثرہ علاقوں میں ریلیف اور ریسکیو آپریشنز میں مصروف ہیں۔

شیئر کریں۔