قومی دارالحکومت نئی دہلی کی اعلیٰ عدلیہ میں ایک اہم قانونی پیشرفت کے تحت دہلی ہائی کورٹ نے کشمیری علیحدگی پسند تنظیم ‘دخترانِ ملت’ کی سربراہ آسیہ اندرابی اور ان کی دو ساتھیوں کی جانب سے دائر اپیلوں پر قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) سے باضابطہ جواب طلب کر لیا ہے۔ یہ اپیلیں غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ (یو اے پی اے) کے تحت درج دہشت گردی سے متعلق مقدمے میں ٹرائل کورٹ کی جانب سے سنائی گئی عمر قید اور طویل حبس کی سزاؤں کو چیلنج کرنے کے لیے دائر کی گئی ہیں۔
جسٹس پرتھبا ایم سنگھ اور جسٹس وکاس مہاجن پر مشتمل ڈویژن بنچ نے اس معاملے پر سماعت کرتے ہوئے این آئی اے کو باضابطہ نوٹس جاری کیا۔ ہائی کورٹ نے نہ صرف آسیہ اندرابی کی عمر قید کی سزا کے خلاف اپیل پر ایجنسی سے وضاحت مانگی ہے بلکہ ان کی دو دیگر ساتھیوں—صوفی فہمیدہ اور ناہیدہ نسرین—کی درخواستوں پر بھی این آئی اے سے جواب طلب کیا ہے، جنہیں ٹرائل کورٹ نے 30، 30 سال قیدِ با مشقت کی سزا سنائی ہے۔ اس کے علاوہ بنچ نے اپیلوں پر حتمی فیصلہ آنے تک سزاؤں کی معطلی کے لیے دائر درخواستوں پر بھی نوٹس جاری کیا ہے۔
سماعت کے دوران ڈویژن بنچ نے اپیل دائر کرنے میں ہونے والی تاخیر پر معقول قانونی پہلو کا جائزہ لیا۔ عدالت عالیہ نے نوٹ کیا کہ اپیل کنندگان کے قریبی اہل خانہ جموں و کشمیر میں مقیم ہیں، جس کی وجہ سے انہیں مقررہ مدت کے اندر نئی دہلی پہنچ کر اپیل کا قانونی عمل شروع کرنے میں دشواریوں اور وسائل کی عدم دستیابی کا سامنا رہا۔ عدالت نے اس تاخیر کا جائزہ لیتے ہوئے ٹرائل کورٹ کا تمام ریکارڈ طلب کرنے کا حکم دیا اور خاص طور پر کیس سے منسلک تمام الیکٹرانک شواہد کو الگ سے محفوظ اور سیل کرنے کی ہدایت دی۔ اپیل کنندگان کو اپنے سابقہ ریکارڈ ظاہر کرنے کے لیے حلف نامہ داخل کرنے کا حکم دیتے ہوئے عدالت نے کیس کی اگلی سماعت اکتوبر کے لیے مقرر کر دی۔
یہ معاملہ دراصل مرکزی وزارتِ داخلہ کی ہدایت پر این آئی اے کی جانب سے کی گئی ایک تفصیلی تحقیقات پر مبنی ہے۔ استغاثہ کا الزام تھا کہ کالعدم تنظیم ‘دخترانِ ملت’ کی ارکان آن لائن پلیٹ فارمز، سوشل میڈیا اور عام اجتماعات کا استعمال کرتے ہوئے جموں و کشمیر میں بھارت مخالف بیانیے کو فروغ دینے اور علیحدگی پسندی کو ہوا دینے میں ملوث تھیں۔ این آئی اے نے دعویٰ کیا کہ ملزمین نے اپنی تقاریر اور پیغامات کی اشاعت کے لیے ٹوئٹر (موجودہ ایکس)، فیس بک، یوٹیوب اور پاکستانی ٹیلی ویژن چینلز کا استعمال کیا۔
آسیہ اندرابی کو 2018 میں گرفتار کیا گیا تھا اور ان پر تعزیراتِ ہند (آئی پی سی) کی مختلف دفعات بشمول 120 بی، 121، 121 اے، 124 اے، 153 بی اور 505 کے ساتھ ساتھ یو اے پی اے کے تحت الزامات عائد کیے گئے تھے۔ رواں برس 14 جنوری 2026 کو ایڈیشنل سیشن جج چندر جیت سنگھ نے انہیں قصوروار ٹھہرایا تھا، جس کے بعد 24 مارچ کو باضابطہ سزاؤں کا اعلان کیا گیا تھا۔ اب اس معاملے کی قانونی درستگی اور طریقہ کار کی جانچ دہلی ہائی کورٹ میں کی جا رہی ہے۔




