غیر قانونی سرگرمیاں ایکٹ (UAPA) میں بڑی نظیر: ۱۲ سال جیل میں کاٹنے کے بعد دو ملزمان کو سپریم کورٹ سے ضمانت

قومی دارالحکومت نئی دہلی میں سپریم کورٹ نے ایک انتہائی اہم اور تاریخی فیصلہ سناتے ہوئے غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ (UAPA) کے تحت گرفتار دو ملزمان کو تقریباً ۱۲ سال جیل میں رہنے کے بعد باقاعدہ ضمانت منظور کر لی ہے۔ عدالتِ عظمیٰ نے واضح الفاظ میں قرار دیا کہ مقدمے میں ہونے والی غیر معمولی اور غیر معقول تاخیر نے آئین کے آرٹیکل ۲۱ کے تحت شہریوں کو حاصل بنیادی حقِ زندگی، شخصی آزادی اور خصوصاً فوری اور منصفانہ ٹرائل کے حق کی صریح خلاف ورزی کی ہے۔

کیس کے حقائق کے مطابق یہ معاملہ مبینہ طور پر انڈین مجاہدین سے منسلک ایک کیس سے متعلق ہے، جس میں دونوں ملزمان کو ۲۰۱۴ء میں گرفتار کیا گیا تھا۔ استغاثہ کی جانب سے ان کے قبضے سے دھماکا خیز مواد کی برآمدگی کا دعویٰ کیا گیا تھا اور ان پر UAPA سمیت دیگر سنگین فوجداری دفعات کے تحت مقدمات قائم کیے گئے تھے۔ تاہم، گرفتاری کے بعد ایک درجن سال گزر جانے کے باوجود ٹرائل میں کوئی خاطر خواہ پیش رفت نہ ہو سکی اور سماعت انتہائی سست رفتاری کا شکار رہی، جس کے باعث ملزمان مسلسل زیرِ التوا مقدمے کی پاداش میں بلا فیصلہ قید رہے۔

سماعت کے دوران سپریم کورٹ کی بنچ نے اس بات پر شدید تشویش کا اظہار کیا کہ اتنے طویل عرصے بعد بھی مقدمے کا فیصلہ آنے کا کوئی واضح امکان نظر نہیں آتا۔ عدالت نے اپنے آبزرویشن میں کہا کہ کسی بھی ملزم کو محض الزامات کی سنگینی کی بنیاد پر غیر معینہ مدت تک قید میں نہیں رکھا جا سکتا۔ بنچ نے تسلیم کیا کہ اگرچہ UAPA جیسے سخت قوانین میں ضمانت کے لیے انتہا سے زیادہ کڑی شرائط مقرر ہیں، لیکن آئین کا آرٹیکل ۲۱ اور اس کے تحت ملنے والے بنیادی انسانی حقوق سب سے اعلیٰ ہیں اور انہیں غیر ضروری تاخیر کے ذریعے بے معنی نہیں بنایا جا سکتا۔

عدالتِ عظمیٰ نے اپنے گزشتہ فیصلوں اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے اصولوں کا حوالہ دیتے ہوئے دہرایا کہ "تاخیر سے ملنے والا انصاف، دراصل انصاف سے محرومی کے مترادف ہے”۔ بنچ نے واضح کیا کہ ریاست کی یہ بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ مقدمات کی بروقت سماعت کو یقینی بنائے۔ عدالت نے دونوں ملزمان کو مناسب شرائط کے ساتھ ضمانت دینے کا حکم جاری کیا، تاہم یہ وضاھت بھی کی کہ اس ضمانت کا مطلب ملزمان کی بریت نہیں ہے اور ٹرائل کورٹ قانون کے مطابق شواہد کی بنیاد پر حتمی فیصلہ کرے گی۔

یہ فیصلہ ملک میں نااہل اور سست عدالتی و تفتیشی نظام کے نتیجے میں بغیر جرم ثابت ہوئے برسوں جیلوں میں سڑنے والے زیرِtrial قیدیوں، خصوصاً اقلیتی طبقے سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کے لیے امید کی ایک نئی کرن ہے۔ قانونی اور انسانی حقوق کے ماہرین نے اس فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ حکم ان تمام انسدادِ دہشت گردی قوانین کے بے جا اور جابرانہ استعمال پر ایک کاری ضرب ہے جہاں محض الزامات کی بنیاد پر انسان کی زندگی کا بہترین حصہ جیل کی سلاخوں کے پیچھے ضائع کر دیا جاتا ہے۔

سپریم کورٹ کا یہ اقدام آئینی جمہوریت، انسانی وقار اور بنیادی حقوق کی بالادستی کو ثابت کرتا ہے۔ یہ فیصلہ تفتیشی ایجنسیوں اور حکومت کے لیے ایک واضح پیغام ہے کہ قانون کے نفاذ کی نام پر شہریوں کے آئینی حقوق اور منصفانہ سماعت کے حق کو پامال نہیں کیا جا سکتا، اور آئینی عدالتیں ہمیشہ مظلوموں کی شخصی آزادی کے تحفظ کے لیے سنٹرل پلر کا کام کرتی رہیں گی۔

شیئر کریں۔