بلاتکاریوں کامحافظ ۔۔۔ نئے وزیرتعلیم کے انتخاب پر راہل گاندھی کی وزیراعظم پربھی شدید تنقید

نئی دہلی: لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے منگل کے روز بلقیس بانو کیس کے مجرموں کی رہائی کی حمایت کرنے پر مرکزی وزیر تعلیم پرہلاد جوشی پر سخت تنقید کی ہے۔ پارلیمنٹ کے مانسون سیشن کے دوران میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کانگریس رہنما نے پرہلاد جوشی کو ‘ریپسٹس کا محافظ’ قرار دیا اور وزیر اعظم نریندر مودی پر سوال اٹھایا کہ انہوں نے ایسے شخص کو ملک کا وزیر تعلیم کیوں مقرر کیا۔

راہل گاندھی نے اپنے بیان میں کہا کہ ایک طرف نوجوان طلبا اور طالبات نظام تعلیم کی خامیوں پر احتجاج کر رہے ہیں اور پولیس کی لاٹھیاں کھا رہے ہیں، وہیں دوسری طرف بی جے پی حکومت نے ایک ایسے شخص کو وزیر تعلیم بنا دیا ہے جو عصمت دری کرنے والوں کا دفاع کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کی کابینہ میں بہت سے لوگ موجود تھے، لیکن انہوں نے جان بوجھ کر ایک ایسے شخص کا انتخاب کیا جس کے بیانات عصمت دری کے مجرموں کو تحفظ فراہم کرتے ہیں۔ کانگریس پارٹی نے اس موقع پر پرہلاد جوشی کا ایک پرانا ویڈیو بھی جاری کیا ہے جس میں وہ بلقیس بانو کیس کے مجرموں کی قبل از وقت رہائی پر مبینہ طور پر یہ کہتے سنے جا سکتے ہیں کہ اس میں کچھ غلط نہیں ہے کیونکہ یہ قانونی عمل کے تحت ہوا ہے۔

اس معاملے پر کانگریس کی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا نے بھی لوک سبھا میں پیپر لیک اور امتحانی نظام کی خامیوں کے بل پر بحث کے دوران بی جے پی حکومت کو نشانہ بنایا۔ ان کے ریمارکس پر ایوان میں حکومتی ارکان کی جانب سے شدید ہنگامہ ہوا اور ثبوت طلب کیے گئے۔ پرینکا گاندھی نے واضح کیا کہ ان کے پاس پرہلاد جوشی کا وہ ویڈیو موجود ہے اور وہ اسے مکمل ثبوت کے طور پر پیش کریں گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ایک جانب خواتین کے حقوق اور ریزرویشن کی بات کرتی ہے اور دوسری جانب ایسے وزرا کو اہم عہدے دیتی ہے، جس سے معاشرے میں خواتین کے تحفظ کے حوالے سے انتہائی غلط پیغام جاتا ہے۔

واضح رہے کہ گجرات حکومت کی جانب سے دو ہزار دو کے فسادات کے دوران بلقیس بانو کے ساتھ اجتماعی زیادتی اور ان کے خاندان کے افراد کے قتل میں عمر قید کی سزا کاٹنے والے گیارہ مجرموں کو قبل از وقت رہا کر دیا گیا تھا۔ اس وقت پرہلاد جوشی نے اس فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے مجرموں کے اچھے رویے کا حوالہ دیا تھا۔ تاہم بعد ازاں دو ہزار چوبیس میں سپریم کورٹ آف انڈیا نے اس رہائی کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے منسوخ کر دیا تھا اور تمام مجرموں کو دوبارہ جیل بھیج دیا گیا تھا۔

شیئر کریں۔