سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس اَجل بھویاں نے اتر پردیش کے شہر ورانسی میں گنگا ندی کے اوپر کشتی میں افطار کے دوران چکن بریانی کھانے پر 14 مسلم نوجوانوں کی گرفتاری اور ان کی طویل قید پر شدید سوالات اٹھائے ہیں۔ نیشنل لا انسٹی ٹیوٹ یونیورسٹی (این ایل آئی یو) بھوپال میں چوتھے جسٹس جی پی سنگھ میموریل لیکچر سے خطاب کرتے ہوئے جسٹس بھویاں نے واضح کیا کہ ملک میں ایسا کوئی قانون نہیں ہے جو ندی کے اوپر یا کسی جگہ چکن کھانے کو جرم قرار دیتا ہو۔ انہوں نے کہا کہ چکن بریانی کھانا کسی بھی صورت میں جرم نہیں ہو سکتا اور نہ ہی اسے جرم بنایا جانا چاہیے۔
ورانسی کا یہ واقعہ مارچ کے مہینے کا ہے جب ایک کشتی پر افطار کے دوران چکن بریانی کھانے اور اس کے بقایا جات گنگا ندی میں پھینکنے کا الزام لگا کر مذہبی جذبات کو مجروح کرنے، باہمی دشمنی کو فروغ دینے اور واٹر پولوشن ایکٹ کی خلاف ورزی کی مختلف دفعات کے تحت 14 مسلم نوجوانوں کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔ ان نوجوانوں کو تقریباً تین ماہ جیل کی سلاخوں کے پیچھے گزارنے پڑے۔ عدالت عظمیٰ کے جج نے اس واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ معصومانہ یا پرامن افعال پر اس نوعیت کا شدید قانونی اقدام بنیادی انسانی حقوق اور آئینی آزادی کی روح کے خلاف ہے۔
جسٹس اَجل بھویاں نے اس کیس کو مثال بناتے ہوئے ملک میں پرامن اختلافِ رائے اور آزادانہ اظہارِ خیال کی بڑھتی ہوئی جرم سازی (Criminalisation) پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ جمہوری نظام میں ہر شہری کو پرامن طریقے سے اختلاف کرنے اور اپنی بات رکھنے کا بنیادی حق حاصل ہے، لیکن موجودہ دور میں معمولی اور پرامن احتجاجی سرگرمیوں کو بھی سنگین جرائم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ انہوں نے ماحولیاتی کارکنوں اور طلبہ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ماحولیاتی تحفظ یا تعلیمی اداروں میں مظاہرے کرنے والوں کو گرفتاریوں، ضمانت میں تاخیر اور معطلیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
اپنے خطاب کے دوران جسٹس بھویاں نے عدالتی نظام میں ضمانت کی سخت شرائط اور دیگر قانونی رکاوٹوں پر بھی تنقید کی، جو شہریوں کو ان کے جمہوری حقوق کے استعمال سے باز رکھتی ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے ‘بلڈوزر جسٹس’ کے خلاف سپریم کورٹ کے 2024 کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ یہ فیصلہ انتہائی اہم اور ضروری تھا، لیکن یہ دو سال تاخیر سے سامنے آیا۔ اس تاخیر کی وجہ سے کئی بے قصور افراد کو ناقابل تلافی نقصان اٹھانا پڑا۔
جسٹس بھویاں نے بمبئی ہائی کورٹ کی جانب سے فلسطین کے حق میں پرامن مظاہرے کی اجازت نہ دینے کے فیصلے پر بھی سوالات قائم کیے۔ انہوں نے یاد دہانی کرائی کہ ہندوستان نے تاریخی طور پر ہمیشہ فلسطین کو تسلیم کیا ہے اور اس کے ساتھ سفارتی تعلقات برقرار رکھے ہیں، لہٰذا فلسطین کے عوام سے یکجہتی کے پرامن اظہار کو شک کی نگاہ سے دیکھنا اور اس پر پابندی لگانا سمجھ سے بالاتر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حقوق انسانی اور جمہوری اقدار کی پاسداری ہی کسی بھی مہذب معاشرے کی اصل بنیاد ہوتی ہے۔




