بھٹکل میں محفل شعر و ادب کی شعری نشست۔ ممتاز شعراء نے کلام پیش کیا
بھٹکل (راست)بڑے مشاعروں کی بنسبت چھوٹی چھوٹی شعری نشستیں زیادہ مفید اور کارگر ہوتی ہیں۔محفل شعر و ادب بھٹکل کی اس شعری نشست میں شرکت کر کے آج ایسا محسوس ہوا کہ یہ بظاہر چھوٹی سی نشست ہے لیکن یہ اپنے اثرات کے لحاظ سے بڑے مشاعروں پر بھاری ہے۔
معہد امام حسن البناء شھید میں محفل شعر و ادب بھٹکل کے زیر اہتمام منعقد ایک شعری نشست میں مہمان خصوصی مولانا عبدالمتین منیری نے اپنے خطاب کے دوران ان خیالات کا اظہار کیا۔ مولانا عبدالمتین منیری نےمزید کہا کہ ادب اور ثقافت کی بقا اور اس کی ترویج کے لیے شعری نشستوں کا کردار نہایت اہم ہوتا ہے۔ مولانا نے امید ظاہر کی کہ بھٹکل میں ایسی نشستوں کے ذریعے ادب کو فروغ ملے گا اور نوجوان قلم کاروں میں تخلیق کا ذوق پروان چڑھے گا۔ انہوں نے اس خوبصورت محفل کے انعقاد کے لیے محفل شعر و ادب کے ذمہ داروں کو اور ان کے کارکنان کو مبارکباد دی۔ اس سے پہلے ابتدائی گفتگو کرتے ہوئے محفل شعر و ادب کے ذمہ دار سید احمد سالک ندوی نے نشست کے انعقاد کی غرض وغایت پر روشنی ڈالی ۔انھوں نے واضح کیا محفل شعر و ادب گزشتہ تین برسوں سے مختلف طرحی اور غیر طرحی نشستیں منعقد کرتا آیا ہے ۔ انھوں نے محفل کی سرگرمیوں میں سلسلہ اشعار "عرض ہے ” کی ترسیل کے متعلق بھی جانکاری دی اور کہا کہ اب تک ایک ہزار 90 اشعار کا انتخاب کرکے روزانہ کی بنیاد پر قارئین کے ذوق کی تسکین کے لیےمختلف سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر ارسال کیا گیا ہے۔ اس شعری نشست میں صدر مشاعرہ ڈاکٹر محمد حنیف شباب، رحمت اللہ رحمت، مولوی جعفر صوان ندوی، مولوی رائف کولا ندوی، مولوی شقران خان غازی ندوی، جنابعرفانجاسر، اور سید احمد سالک ندوی نے اپنا کلام پیش کر کے حاضرین سے داد وصول کی۔ محفل کا آغاز حافظ ہلال رکن الدین کی تلاوت سے ہوا تھا اور جامعہ اسلامیہ کے طالب علم اسعد قاضی نے ہدیہ نعت پیش کی۔ محفل شعر و ادب کے سیکرٹری جنرل مولوی رائف کولا نے حاضرین کا شکریہ ادا کیا۔ سالک ندوی نے اس مشاعرے کی نظامت کی۔ رات قریب ١١ بجے تواضع کے ساتھ یہ نشست اختتام کو پہنچی۔ سامعین میں شہر کے معززین موجود تھے۔




