بھٹکل (فکروخبر نیوز) ملک کے تعلیمی نظام میں شفافیت، مسابقتی امتحانات میں بدعنوانیوں کے خاتمے اور بنیادی تعلیمی اصلاحات کے مطالبے کو لے کر بدھ کی سہ پہر بھٹکل میں اسٹوڈنٹس ویلفیئر ونگ کی قیادت میں سینکڑوں طلبہ نے ایک پُرامن احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرین نے منی ودھان سودھا کے احاطے میں جمع ہوکر اپنے مطالبات کے حق میں آواز بلند کی اور بعد ازاں اسسٹنٹ کمشنر (اے سی) بھٹکل کے توسط سے حکومت کے نام ایک تفصیلی یادداشت پیش کی۔
طلبہ کی جانب سے پیش کردہ یادداشت میں قومی سطح کے داخلہ امتحانات، بالخصوص نیٹ (NEET) میں بار بار سامنے آنے والی بے ضابطگیوں، پیپر لیک کے واقعات اور امتحانی عمل کی شفافیت پر سوالات اٹھائے گئے۔ طلبہ نمائندوں نے کہا کہ تعلیم کسی بھی قوم کی ترقی اور روشن مستقبل کی بنیاد ہوتی ہے، لیکن مسلسل سامنے آنے والے پیپر لیک اور بدانتظامی کے واقعات لاکھوں محنتی طلبہ کے مستقبل کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔
یادداشت میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کو روکنے کے لیے مؤثر اور سخت قانونی اقدامات کیے جائیں اور ایسا شفاف، محفوظ اور کرپشن سے پاک امتحانی نظام قائم کیا جائے جس سے طلبہ کا اعتماد بحال ہو سکے۔ طلبہ نے اس بات پر زور دیا کہ میرٹ اور انصاف کے اصولوں کو ہر قیمت پر برقرار رکھا جانا چاہیے تاکہ اہل اور مستحق امیدواروں کے حقوق متاثر نہ ہوں۔
اس موقع پر طلبہ نے معروف تعلیمی اصلاح کار سونم وانگچک کی جانب سے پیش کی گئی تعلیمی اصلاحات اور ان سے متعلق اٹھائے گئے مسائل پر بھی توجہ دلائی۔ یادداشت میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ ان تجاویز پر سنجیدگی سے غور کرتے ہوئے ماہرینِ تعلیم، طلبہ اور متعلقہ فریقین کے ساتھ بات کی جائے تاکہ ملک کے تعلیمی نظام کو مزید مؤثر اور طلبہ دوست بنایا جا سکے۔
طلبہ نے مرکزی وزیرِ تعلیم کی جوابدہی کو یقینی بنانے اور تعلیمی شعبے میں شفافیت کے فروغ کے لیے عملی اقدامات کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔ اسٹوڈنٹس ویلفیئر ونگ کے ذمہ داران نے واضح کیا کہ احتجاج مکمل طور پر پُرامن، آئینی دائرے کے اندر اور قانون کے احترام کے ساتھ منعقد کیا گیا۔
بعد ازاں اسسٹنٹ کمشنر بھٹکل نے طلبہ سے یادداشت وصول کرتے ہوئے یقین دلایا کہ ان کے مطالبات اور تجاویز کو متعلقہ اعلیٰ حکام تک پہنچایا جائے گا۔ احتجاج میں شریک طلبہ نے امید ظاہر کی کہ حکومت تعلیمی نظام میں پائی جانے والی خامیوں کو دور کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کرے گی اور طلبہ کے مستقبل کو محفوظ بنانے کی جانب توجہ دے گی۔




